صحیح بخاری حدیث ۵۷۵۳ - بدشگونی کی نفی

بدشگونی اور چھوت چھات کے بارے میں حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۷۵۳

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا عَدْوَى ، وَلَا طِيَرَةَ ، وَالشُّؤْمُ فِي ثَلَاثٍ : فِي الْمَرْأَةِ ، وَالدَّارِ ، وَالدَّابَّةِ " .

ابن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”امراض میں چھوت چھات کی اور بدشگونی کی کوئی اصل نہیں اور اگر نحوست ہوتی تو یہ صرف تین چیزوں میں ہوتی عورت میں، گھر میں اور گھوڑے میں۔“

صحیح بخاری حدیث ۵۷۵۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ امراض میں چھوت چھات کی کوئی اصل نہیں اور بدشگونی کی بھی کوئی اصل نہیں۔ پھر فرمایا کہ اگر نحوست ہوتی تو تین چیزوں میں ہوتی: عورت، گھر اور گھوڑے میں۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع بدشگونی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے ان خیالات کی اصلاح فرمائی جو چیزوں کو خود سے مؤثر سمجھنے لگتے ہیں۔ حدیث کے الفاظ میں لا عدوی اور لا طیرۃ آیا ہے، یعنی بیماری یا بدشگونی کو مستقل اثر رکھنے والی چیز نہ سمجھا جائے۔ یہاں بات کو اسی متن تک رکھنا ضروری ہے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بدشگونی کی اصل کی نفی فرمائی اور ایک مخصوص جملے کے ساتھ تین چیزوں کا ذکر کیا۔ اس سے مسلمان کو وہمی سوچ سے بچنے اور اللہ پر بھروسا رکھنے کی رہنمائی ملتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بدشگونی کو مستقل اثر رکھنے والی چیز سمجھنا درست نہیں۔
  • بیماری اور نقصان کے معاملے میں اصل اختیار اللہ کے پاس ہے۔
  • حدیث میں لا عدوی اور لا طیرۃ کے الفاظ واضح طور پر آئے ہیں۔
  • مسلمان کو وہم کے بجائے رب پر بھروسا رکھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں