صحیح بخاری حدیث ۵۷۵۶ - اچھی فال پسند ہے
اچھی فال اور اچھی بات کی حدیث
صحیح بخاری : ۵۷۵۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۷۵۶
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ الصَّالِحُ الْكَلِمَةُ الْحَسَنَةُ " .
انس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”چھوت لگ جانے کی کوئی اصل نہیں اور نہ بدشگونی کی کوئی اصل ہے اور مجھے اچھی فال پسند ہے۔“ یعنی کوئی کلمہ خیر اور نیک بات جو کسی کے منہ سے سنی جائے (جیسا کہ اوپر بیان ہوا)۔
صحیح بخاری حدیث ۵۷۵۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چھوت لگ جانے کی کوئی اصل نہیں، بدشگونی کی بھی کوئی اصل نہیں، اور مجھے اچھی فال پسند ہے۔ حدیث میں اچھی فال کی وضاحت کلمہ خیر اور نیک بات سے کی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام وہمی بدشگونی کو ختم کرتا ہے، مگر اچھی بات سن کر اچھا گمان رکھنے کی گنجائش بتاتا ہے۔ اس حدیث میں بیماری، بدشگونی اور اچھی فال تینوں کا ذکر ہے، مگر سب باتوں کا رخ اللہ پر بھروسے کی طرف جاتا ہے۔ مسلمان کو کسی چیز کو خود سے نفع یا نقصان دینے والا نہیں سمجھنا چاہیے۔ اچھی فال امید کا ایک سادہ پہلو ہے، نہ کہ غیب کی خبر۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدشگونی کی نفی فرمائی۔
- اچھی فال کو کلمہ خیر اور نیک بات سے سمجھایا گیا۔
- وہمی سوچ کے بجائے اللہ پر بھروسا ضروری ہے۔
- اچھی بات سن کر امید رکھنا اس حدیث میں پسندیدہ انداز میں آیا ہے۔
