صحیح بخاری حدیث ۵۷۵۴ - نیک فال اور اچھی بات
نیک فال کیا ہے؟ اچھی بات سننے کی حدیث
صحیح بخاری : ۵۷۵۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۷۵۴
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا طِيَرَةَ وَخَيْرُهَا الْفَأْلُ " ، قَالُوا : وَمَا الْفَأْلُ ، قَالَ : " الْكَلِمَةُ الصَّالِحَةُ يَسْمَعُهَا أَحَدُكُمْ " .
ابوہریرہ روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بدشگونی کی کوئی اصل نہیں البتہ نیک فال لینا کچھ برا نہیں ہے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: نیک فال کیا چیز ہے؟ فرمایا ”کوئی ایسی بات سننا۔“
صحیح بخاری حدیث ۵۷۵۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بدشگونی کی کوئی اصل نہیں، البتہ نیک فال لینا برا نہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ نیک فال کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی ایسی اچھی بات جو تم میں سے کوئی سنے۔ اس حدیث کا موضوع نیک فال اور بدشگونی ہے۔ بدشگونی انسان کو وہم، خوف اور بے بنیاد سوچ میں ڈال سکتی ہے، جبکہ نیک فال میں اچھی بات سن کر دل کا مطمئن ہونا شامل ہے۔ حدیث میں نیک فال کو کسی پوشیدہ دعوے یا غیب دانی سے نہیں جوڑا گیا، بلکہ صرف کلمہ صالحہ، یعنی اچھی بات سننے سے بیان کیا گیا۔ اس لیے اس حدیث کو سادہ طور پر یوں سمجھا جائے کہ بری فال کی بنیاد نہیں، اچھی بات امید دلا سکتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بدشگونی کی کوئی اصل نہیں۔
- نیک فال کو حدیث میں اچھی بات سننے سے بیان کیا گیا۔
- صحابہ کرام نے سوال کر کے بات کو واضح کرایا۔
- اچھی بات سن کر اچھا گمان رکھنا اس حدیث کے مطابق پسندیدہ ہے۔
