صحیح بخاری حدیث ۵۷۵۵ - کلمہ صالحہ نیک فال ہے
کلمہ صالحہ: نیک فال کی آسان وضاحت
صحیح بخاری : ۵۷۵۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۷۵۵
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا طِيَرَةَ وَخَيْرُهَا الْفَأْلُ " ، قَالَ : وَمَا الْفَأْلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " الْكَلِمَةُ الصَّالِحَةُ يَسْمَعُهَا أَحَدُكُمْ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بدشگونی کی کوئی اصل نہیں اور اس میں بہتر فال نیک ہے۔“ لوگوں نے پوچھا کہ نیک فال کیا ہے یا رسول اللہ؟ فرمایا ”کلمہ صالحہ (نیک بات) جو تم میں سے کوئی سنے۔“
صحیح بخاری حدیث ۵۷۵۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بدشگونی کی کوئی اصل نہیں، اور اس میں بہتر فال نیک ہے۔ لوگوں نے پوچھا کہ نیک فال کیا ہے یا رسول اللہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کلمہ صالحہ، یعنی نیک بات جو تم میں سے کوئی سنے۔ یہ حدیث پچھلی روایت کے قریب ہے اور نیک فال کو بہت آسان انداز میں سمجھاتی ہے۔ یہاں نیک فال کا مطلب یہ نہیں کہ انسان چیزوں کو خود سے نفع یا نقصان دینے والا سمجھنے لگے۔ حدیث کے مطابق نیک فال صرف اچھی بات سننے کی حد تک بیان ہوئی ہے۔ اس سے دل میں امید پیدا ہو سکتی ہے، مگر اصل بھروسا اللہ پر رہتا ہے۔ بدشگونی کے مقابلے میں نیک بات سن کر اچھا گمان رکھنا اس حدیث کا صاف پیغام ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بدشگونی کو بنیاد نہ بنایا جائے۔
- نیک فال کی وضاحت کلمہ صالحہ سے کی گئی ہے۔
- اچھی بات انسان کے دل میں امید پیدا کر سکتی ہے۔
- فال کو غیب دانی یا قطعی نتیجے کے طور پر نہیں لینا چاہیے۔
