صحیح بخاری حدیث ۵۷۵۷ - چھوت، بدشگونی اور صفر
لا عدوی ولا طیرۃ: بدفالی اور صفر کی نحوست کی نفی
صحیح بخاری : ۵۷۵۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۷۵۷
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”چھوت لگ جانا بدشگونی یا الو یا صفر کی نحوست یہ کوئی چیز نہیں ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۵۷۵۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چھوت لگ جانا، بدشگونی، الو یا صفر کی نحوست کوئی چیز نہیں ہے۔ اس روایت کا اصل موضوع وہ خیالات ہیں جن میں لوگ بعض چیزوں کو خود سے بداثر سمجھ لیتے ہیں۔ حدیث ان غلط تصورات کی نفی کرتی ہے۔ لا عدوی، لا طیرۃ، لا ہامۃ اور لا صفر کے الفاظ اسی بات کو بیان کرتے ہیں کہ نقصان اور فائدے کا اصل اختیار اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ اس حدیث سے یہ نہیں کہا جا رہا کہ انسان احتیاط چھوڑ دے، بلکہ متن کے مطابق بات یہ ہے کہ بے بنیاد نحوست اور بدفالی کو دل میں جگہ نہ دی جائے۔ مسلمان کے لیے مناسب رویہ یہ ہے کہ وہ وہم کے بجائے اللہ پر بھروسا رکھے اور بے اصل خیالات سے بچے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بدفالی اور نحوست کے بے بنیاد تصورات سے بچنا چاہیے۔
- حدیث میں صفر کی نحوست کی نفی آئی ہے۔
- الو سے متعلق وہمی خیال کو بھی رد کیا گیا۔
- نفع و نقصان کا اصل اختیار اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔
