صحیح بخاری حدیث ۵۷۵۸ - جنین کی دیت کا فیصلہ

جنین کی دیت: حمل ضائع ہونے کے معاملے کا نبوی فیصلہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۷۵۸

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي امْرَأَتَيْنِ مِنْ هُذَيْلٍ ، اقْتَتَلَتَا فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ ، فَأَصَابَ بَطْنَهَا وَهِيَ حَامِلٌ ، فَقَتَلَتْ وَلَدَهَا الَّذِي فِي بَطْنِهَا ، فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَضَى أَنَّ دِيَةَ مَا فِي بَطْنِهَا غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ ، فَقَالَ وَلِيُّ الْمَرْأَةِ الَّتِي غَرِمَتْ : كَيْفَ أَغْرَمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ لَا شَرِبَ ، وَلَا أَكَلَ ، وَلَا نَطَقَ ، وَلَا اسْتَهَلَّ ، فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ " .

ابوہریرہ روایت:

قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں کے بارے میں جنہوں نے جھگڑا کیا تھا یہاں تک کہ ان میں سے ایک عورت (ام عطیف بنت مروح) نے دوسری کو پتھر پھینک کر مارا (جس کا نام ملیکہ بنت عویمر تھا) وہ پتھر عورت کے پیٹ میں جا کر لگا۔ یہ عورت حاملہ تھی اس لیے اس کے پیٹ کا بچہ (پتھر کی چوٹ سے) مر گیا۔یہ معاملہ دونوں فریق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے تو آپ نے فیصلہ کیا کہ عورت کے پیٹ کے بچہ کی دیت ایک غلام یا باندی آزاد کرنا ہے جس عورت پر تاوان واجب ہوا تھا اس کے ولی (حمل بن مالک بن نابغہ) نے کہا یا رسول اللہ! میں ایسی چیز کی دیت کیسے دے دوں جس نے نہ کھایا نہ پیا نہ بولا اور نہ ولادت کے وقت اس کی آواز ہی سنائی دی؟ ایسی صورت میں تو کچھ بھی دیت نہیں ہو سکتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ یہ شخص تو کاہنوں کا بھائی معلوم ہوتا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۵۷۵۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں کا واقعہ ہے۔ دونوں میں جھگڑا ہوا، ایک نے دوسری کو پتھر مارا، پتھر حاملہ عورت کے پیٹ پر لگا اور اس کے پیٹ کا بچہ مر گیا۔ معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے فیصلہ فرمایا کہ پیٹ کے بچے کی دیت ایک غلام یا باندی آزاد کرنا ہے۔ جس عورت پر تاوان واجب ہوا، اس کے ولی نے اعتراض کیا کہ جس نے نہ کھایا، نہ پیا، نہ بولا اور نہ پیدا ہوتے وقت آواز نکالی، اس کی دیت کیسے ہو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرز کی بات پر فرمایا کہ یہ شخص کاہنوں کا بھائی معلوم ہوتا ہے۔ اس حدیث میں جنین کی دیت کا حکم اور بے بنیاد، سجع نما اعتراض کی ناپسندیدگی دونوں ذکر ہوئے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حمل کے ضائع ہونے کے معاملے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت کا فیصلہ فرمایا۔
  • اس واقعہ میں دیت ایک غلام یا باندی قرار دی گئی۔
  • حکم کے مقابلے میں بناوٹی اعتراض کو پسند نہیں کیا گیا۔
  • جھگڑے کے معاملے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے سامنے رکھا گیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں