صحیح بخاری حدیث ۵۷۶۰ - جنین کی دیت اور کاہنوں جیسی بات
جنین کی دیت اور بے اصل اعتراض کا رد
صحیح بخاری : ۵۷۶۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۷۶۰
وَعَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي الْجَنِينِ ، يُقْتَلُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٍ ، فَقَالَ الَّذِي قُضِيَ عَلَيْهِ : كَيْفَ أَغْرَمُ مَا لَا أَكَلَ ، وَلَا شَرِبَ ، وَلَا نَطَقَ ، وَلَا اسْتَهَلَّ ، وَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمَا هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ " .
سعید بن مسیب روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنین جسے اس کی ماں کے پیٹ میں مار ڈالا گیا ہو، کی دیت کے طور پر ایک غلام یا ایک باندی دیئے جانے کا فیصلہ کیا تھا جسے دیت دینی تھی اس نے کہا کہ ایسے بچہ کی دیت آخر کیوں دوں جس نے نہ کھایا، نہ پیا، نہ بولا اور نہ ولادت کے وقت ہی آواز نکالی؟ ایسی صورت میں تو دیت نہیں ہو سکتی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ شخص تو کاہنوں کا بھائی معلوم ہوتا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۷۶۰ کا خلاصہ
اس روایت میں بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جنین کے بارے میں، جسے ماں کے پیٹ میں مار ڈالا گیا ہو، دیت کے طور پر ایک غلام یا باندی دینے کا فیصلہ فرمایا۔ جس شخص پر دیت کا فیصلہ ہوا اس نے کہا کہ میں ایسے بچے کی دیت کیوں دوں جس نے نہ کھایا، نہ پیا، نہ بولا اور نہ ولادت کے وقت آواز نکالی۔ اس نے کہا کہ ایسی صورت میں دیت نہیں ہونی چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ یہ شخص کاہنوں کا بھائی معلوم ہوتا ہے۔ اس حدیث میں دو باتیں صاف ہیں: جنین کی دیت کا فیصلہ، اور حکم کے مقابلے میں الفاظ بنا کر اعتراض کرنے کی ناپسندیدگی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ماں کے پیٹ میں بچے کے قتل پر دیت کا فیصلہ بیان ہوا ہے۔
- دیت ایک غلام یا باندی مقرر کی گئی۔
- بناوٹی دلیل کے ذریعے حکم کو ٹالنے کی روش پسند نہیں کی گئی۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کاہنوں جیسی بات کی نشاندہی فرمائی۔
