صحیح بخاری حدیث ۵۷۵۹ - حمل گرنے کی دیت

حمل گرنے پر دیت کا نبوی فیصلہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۷۵۹

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " أَنَّ امْرَأَتَيْنِ رَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ فَطَرَحَتْ جَنِينَهَا ، فَقَضَى فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٍ " .

ابوہریرہ روایت:

دو عورتیں تھیں، ایک نے دوسری کو پتھر دے مارا جس سے اس کے پیٹ کا حمل گر گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملہ میں ایک غلام یا باندی کا دیت میں دیئے جانے کا فیصلہ کیا۔

صحیح بخاری حدیث ۵۷۵۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں مختصر طور پر دو عورتوں کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ ایک عورت نے دوسری کو پتھر مارا، جس سے اس کے پیٹ کا حمل گر گیا۔ یہ معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آیا تو آپ نے اس میں دیت کا فیصلہ فرمایا۔ دیت کے طور پر ایک غلام یا باندی دیے جانے کا حکم ہوا۔ اس روایت میں تفصیل کم ہے، مگر اصل بات صاف ہے کہ حمل کے ضائع ہونے کو نظر انداز نہیں کیا گیا، بلکہ اس پر ایک مقررہ تاوان کا فیصلہ کیا گیا۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع جنین کی دیت ہے۔ متن میں صرف واقعہ، حمل کا گرنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ بیان ہوا ہے، اس لیے اس کی وضاحت بھی اسی حد تک رہنی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حمل ضائع ہونے کے معاملے کو شرعی فیصلہ کے لیے پیش کیا گیا۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غلام یا باندی دیت مقرر فرمائی۔
  • کسی کو نقصان پہنچانے کے معاملے کو معمولی نہیں سمجھا گیا۔
  • حدیث میں فیصلہ مختصر مگر واضح انداز میں بیان ہوا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں