صحیح بخاری حدیث ۲۸۵۹ - اگر نحوست ہوتی تو
اگر نحوست ہوتی تو: عورت، گھوڑا اور مکان کی حدیث
صحیح بخاری : ۲۸۵۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۸۵۹
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ فَفِي الْمَرْأَةِ ، وَالْفَرَسِ ، وَالْمَسْكَنِ " .
سہل بن سعد ساعدی روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نحوست اگر ہوتی تو وہ گھوڑے، عورت اور مکان میں ہوتی۔“
صحیح بخاری حدیث ۲۸۵۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع نحوست ہے۔ سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کسی چیز میں نحوست ہوتی تو وہ عورت، گھوڑے اور مکان میں ہوتی۔ اس روایت کے الفاظ میں اگر کا انداز بہت اہم ہے۔ اس لیے اس حدیث کو پڑھتے ہوئے جلدی میں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ ہر عورت، ہر گھوڑا یا ہر گھر نحوست ہے۔ متن میں ایک خاص انداز سے بات آئی ہے۔ علمائے کرام کے مطابق ایسی روایات کو توہم پرستی کے بجائے احتیاط، تجربے اور دوسری شرعی نصوص کے ساتھ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں اصل سبق یہ ہے کہ حدیث کے لفظ کو دھیان سے پڑھا جائے اور بغیر علم کے سخت بات نہ کہی جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث میں اگر کا لفظ معنی سمجھنے میں اہم ہے۔
- ہر عورت، گھوڑے یا گھر کے بارے میں برا گمان نہیں کرنا چاہیے۔
- نحوست کے مسئلے میں توہم پرستی سے بچنا چاہیے۔
- شرعی بات کو الفاظ کے ساتھ امانت سے سمجھنا چاہیے۔
