صحیح بخاری حدیث ۳۶۰۰ - فتنوں سے دین بچانا
فتنوں سے دین بچانے کے لیے الگ ہو جانا
صحیح بخاری : ۳۶۰۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۶۰۰
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ الْمَاجِشُونِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ لِي : إِنِّي أَرَاكَ تُحِبُّ الْغَنَمَ وَتَتَّخِذُهَا فَأَصْلِحْهَا وَأَصْلِحْ رُعَامَهَا فَإِنِّي ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ تَكُونُ الْغَنَمُ فِيهِ خَيْرَ مَالِ الْمُسْلِمِ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ أَوْ سَعَفَ الْجِبَالِ فِي مَوَاقِعِ الْقَطْرِ يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ " .
ابو سعید خدری روایت:
میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہیں بکریوں سے بہت محبت ہے اور تم انہیں پالتے ہو تو تم ان کی نگہداشت اچھی کیا کرو اور ان کی ناک کی صفائی کا بھی خیال رکھا کرو۔ کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ مسلمان کا سب سے عمدہ مال اس کی بکریاں ہوں گی جنہیں لے کر وہ پہاڑ کی چوٹیوں پر چڑھ جائے گا یا (آپ نے «سعف الجبال» کے لفظ فرمائے) وہ بارش گرنے کی جگہ میں چلا جائے گا۔ اس طرح وہ اپنے دین کو فتنوں سے بچانے کے لیے بھاگتا پھرے گا۔
صحیح بخاری حدیث ۳۶۰۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے پہلے بکریوں کی نگہداشت کی نصیحت کی، پھر نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا فرمان بیان کیا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ مسلمان کا سب سے بہتر مال اس کی بکریاں ہوں گی۔ وہ انہیں لے کر پہاڑوں کی چوٹیوں یا بارش کے مقامات کی طرف چلا جائے گا، تاکہ اپنے دین کو فتنوں سے بچا سکے۔ اس روایت کا اصل موضوع فتنوں سے دین کی حفاظت، سادگی اور ضرورت کے وقت دور رہنا ہے۔ حدیث میں یہ نہیں کہا گیا کہ ہر وقت لوگوں کو چھوڑ دینا چاہیے، بلکہ ایک خاص زمانے کا ذکر ہے جب فتنوں سے بچنے کے لیے پناہ لینا بہتر ہو گا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- فتنوں کے وقت دین کی حفاظت سب سے اہم کام ہے۔
- بکریوں کی اچھی نگہداشت کی نصیحت حدیث میں آئی ہے۔
- کبھی حالات ایسے ہو سکتے ہیں کہ فتنوں سے دور رہنا بہتر ہو۔
