صحیح بخاری حدیث ۳۵۹۹ - خزانے اور فتنے
خزانے بھی نازل ہوئے اور فتنے بھی: ایک مختصر حدیث
صحیح بخاری : ۳۵۹۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۵۹۹
وَعَنْ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَتْنِي هِنْدُ بِنْتُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : اسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ مَاذَا أُنْزِلَ مِنَ الْخَزَائِنِ وَمَاذَا أُنْزِلَ مِنَ الْفِتَنِ " .
ام سلمہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو فرمایا ”سبحان اللہ! کیسے کیسے خزانے اترے ہیں (جو مسلمانوں کو ملیں گے) اور کیا کیا فتنے و فساد اترے ہیں۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۵۹۹ کا خلاصہ
اس روایت میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم بیدار ہوئے تو فرمایا: سبحان اللہ! کیسے کیسے خزانے اترے ہیں اور کیا کیا فتنے اترے ہیں۔ حدیث بہت مختصر ہے، مگر اس میں دو چیزیں ایک ساتھ ذکر ہوئی ہیں: خزانے اور فتنے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مال، قوت یا دنیاوی مواقع کے ساتھ آزمائشیں بھی آ سکتی ہیں۔ تاہم حدیث کے الفاظ میں مزید تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے اس شرح میں بھی کسی خاص واقعے یا زمانے کو اپنی طرف سے متعین نہیں کیا گیا۔ اس کا مرکزی موضوع فتنہ، دنیا کے خزانے اور نبی صلى الله عليه وسلم کی خبر ہے۔ اس حدیث کو پڑھتے ہوئے دل میں اللہ کی پاکی اور فتنوں سے بچنے کی فکر پیدا ہوتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے خزانوں کے اترنے کا ذکر فرمایا۔
- اسی کے ساتھ فتنوں کے اترنے کی خبر بھی دی۔
- دنیاوی نعمتیں انسان کے لیے آزمائش کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔
