صحیح بخاری حدیث ۳۵۹۷ - گھروں میں فتنوں کی بارش
فتنوں کی بارش: گھروں میں آنے والی آزمائشوں کی حدیث
صحیح بخاری : ۳۵۹۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۵۹۷
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ أُسَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَشْرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُطُمٍ مِنَ الْآطَامِ ، فَقَالَ : " هَلْ تَرَوْنَ مَا أَرَى إِنِّي أَرَى الْفِتَنَ تَقَعُ خِلَالَ بُيُوتِكُمْ مَوَاقِعَ الْقَطْرِ " .
اسامہ بن زید روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ مدینہ کے ایک بلند ٹیلہ پر چڑھے اور فرمایا ”جو کچھ میں دیکھ رہا ہوں کیا تمہیں بھی نظر آ رہا ہے؟ میں فتنوں کو دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے گھروں میں وہ اس طرح گر رہے ہیں جیسے بارش کی بوندیں گرا کرتیں ہیں۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۵۹۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم مدینہ کے ایک بلند ٹیلے پر چڑھے اور صحابہ سے فرمایا کہ کیا تم وہ دیکھ رہے ہو جو میں دیکھ رہا ہوں؟ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میں فتنوں کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ تمہارے گھروں کے درمیان اس طرح گر رہے ہیں جیسے بارش کے قطرے گرتے ہیں۔ یہ روایت بہت مختصر ہے مگر اس میں فتنوں کی کثرت کا بڑا واضح انداز ہے۔ اس کا موضوع فتنہ، گھریلو آزمائشیں اور نبی صلى الله عليه وسلم کی خبر ہے۔ حدیث میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی کہ یہ فتنے کون سے ہوں گے، اس لیے شرح میں بھی اندازہ لگانے کے بجائے اصل الفاظ تک رہنا بہتر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے فتنوں کی کثرت کی خبر دی۔
- فتنے گھروں تک پہنچ سکتے ہیں، اس لیے دین کی حفاظت ضروری ہے۔
- غیبی خبروں میں اپنی طرف سے تفصیل نہیں بڑھانی چاہیے۔
