صحیح بخاری حدیث ۶۴۸۴ - حقیقی مسلمان اور ہجرت
حقیقی مسلمان کون؟ زبان، ہاتھ اور گناہ سے بچنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۴۸۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۸۴
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ ، وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مسلمان وہ ہے جو مسلمانوں کو اپنی زبان اور ہاتھ سے (تکلیف پہنچنے سے) محفوظ رکھے اور مہاجر وہ ہے جو ان چیزوں سے رک جائے جس سے اللہ نے منع کیا ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۴۸۴ کا خلاصہ
یہ حدیث مسلمان کی عملی پہچان بیان کرتی ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں۔ پھر فرمایا کہ مہاجر وہ ہے جو ان چیزوں کو چھوڑ دے جن سے اللہ نے منع کیا ہے۔ اس حدیث میں اسلام کو صرف نام یا دعوے تک محدود نہیں رکھا گیا، بلکہ دوسروں کی سلامتی سے جوڑا گیا ہے۔ زبان سے تکلیف دینا، ہاتھ سے نقصان پہنچانا، یا منع کردہ کاموں میں لگے رہنا اس معیار کے خلاف ہے۔ حدیث کا پیغام عام زندگی کے لیے بہت صاف ہے: اپنے بولنے، اپنے برتاؤ اور اپنے عمل کو ایسا بناؤ کہ دوسرے مسلمان تم سے محفوظ رہیں، اور اللہ کی منع کی ہوئی چیزوں سے دور رہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسلمان کی زبان سے دوسروں کو تکلیف نہیں پہنچنی چاہیے۔
- ہاتھ سے نقصان پہنچانا اسلامی اخلاق کے خلاف ہے۔
- اصل ہجرت گناہ اور منع کردہ چیز چھوڑنے سے بھی جڑی ہے۔
- اسلامی پہچان عمل اور کردار میں ظاہر ہونی چاہیے۔
