صحیح بخاری حدیث ۶۴۸۳ - رسول صلى الله عليه وسلم کی شفقت اور آگ سے بچاؤ
رسول صلى الله عليه وسلم کی شفقت: آگ سے بچانے والی مثال
صحیح بخاری : ۶۴۸۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۸۳
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُ النَّاسِ ، كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ ، جَعَلَ الْفَرَاشُ وَهَذِهِ الدَّوَابُّ الَّتِي تَقَعُ فِي النَّارِ يَقَعْنَ فِيهَا ، فَجَعَلَ يَنْزِعُهُنَّ وَيَغْلِبْنَهُ فَيَقْتَحِمْنَ فِيهَا ، فَأَنَا آخُذُ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ وَهُمْ يَقْتَحِمُونَ فِيهَا " .
ابوہریرہ روایت:
´ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری اور لوگوں کی مثال ایک ایسے شخص کی ہے جس نے آگ جلائی، جب اس کے چاروں طرف روشنی ہو گئی تو پروانے اور یہ کیڑے مکوڑے جو آگ پر گرتے ہیں اس میں گرنے لگے اور آگ جلانے والا انہیں اس میں سے نکالنے لگا لیکن وہ اس کے قابو میں نہیں آئے اور آگ میں گرتے رہے۔ اسی طرح میں تمہاری کمر کو پکڑ کر آگ سے تمہیں نکالتا ہوں اور تم ہو کہ اسی میں گرتے جاتے ہو۔
صحیح بخاری حدیث ۶۴۸۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اپنی اور لوگوں کی مثال ایک شخص سے دی جس نے آگ جلائی۔ جب آگ کے آس پاس روشنی ہوئی تو پروانے اور کیڑے مکوڑے اس میں گرنے لگے۔ آگ جلانے والا انہیں بچانے کی کوشش کرتا، مگر وہ اس کے قابو میں نہ آتے اور آگ میں گرتے جاتے۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میں تمہاری کمر پکڑ کر تمہیں آگ سے بچاتا ہوں، اور تم ہو کہ اسی میں گرتے جاتے ہو۔ یہ حدیث نبی صلى الله عليه وسلم کی شفقت اور لوگوں کی لاپرواہی دونوں دکھاتی ہے۔ آپ صلى الله عليه وسلم کی تعلیمات انسان کو دوزخ سے بچانے کے لیے ہیں، مگر انسان اگر خود گناہ اور نافرمانی کی طرف جائے تو نقصان اسی کا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی تعلیمات دوزخ سے بچانے کے لیے ہیں۔
- انسان کبھی اپنی لاپرواہی سے نقصان کی طرف جاتا ہے۔
- رسول صلى الله عليه وسلم کی مثال حدیث میں بچانے والے شخص سے دی گئی ہے۔
- آگ کی مثال گناہ کے انجام سے خبردار کرتی ہے۔
