صحیح مسلم حدیث ۱۳۱ - اللہ کی وحدانیت کا اقرار

اللہ کی وحدانیت بیان کرنا اور توحید کا پیغام

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۳۱

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ . ح وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ كِلَاهُمَا ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ وَحَّدَ اللَّهَ ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِهِ .

ابومالک روایت:

ابومالک اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جس نے اللہ کی وحدانیت بیان کی۔“

صحیح مسلم حدیث ۱۳۱ کا خلاصہ

اس روایت میں ابومالک اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے اللہ کی وحدانیت بیان کی۔ پھر راوی نے پچھلی روایت جیسا مضمون ذکر کیا۔ اس کا اصل پیغام توحید ہے، یعنی اللہ کو ایک ماننا اور اسی کو عبادت کے لائق سمجھنا۔ پچھلے مضمون کے مطابق اس اقرار کے ساتھ غیر اللہ کی عبادت کا انکار بھی شامل ہے۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ ایمان کی بنیاد اللہ کی وحدانیت ہے۔ جب کوئی شخص توحید کا اقرار کرتا ہے تو اس کے ساتھ عدل کا معاملہ کیا جاتا ہے، اس کی جان اور مال کی حرمت مانی جاتی ہے، اور اس کا آخری حساب اللہ کے سپرد رہتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ کی وحدانیت ایمان کی بنیاد ہے۔
  • توحید کا اقرار انسان کے ظاہر اسلام کی علامت ہے۔
  • جان و مال کی حرمت کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
  • دلوں کا اصل معاملہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں