حدیث ۱۳۲

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۳۲

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا طَالِبٍ الْوَفَاةُ ، جَاءَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَجَدَ عِنْدَهُ أَبَا جَهْلٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عَمِّ ، " قُلْ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، كَلِمَةً أَشْهَدُ لَكَ بِهَا عِنْدَ اللَّهِ " ، فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ : يَا أَبَا طَالِبٍ ، أَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَعْرِضُهَا عَلَيْهِ ، وَيُعِيدُ لَهُ تِلْكَ الْمَقَالَةَ ، حَتَّى قَالَ أَبُو طَالِبٍ آخِرَ مَا كَلَّمَهُمْ هُوَ عَلَى مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَأَبَى ، أَنْ يَقُولَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمَا وَاللَّهِ لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ مَا لَمْ أُنْهَ عَنْكَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ سورة التوبة آية 113 وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِي أَبِي طَالِبٍ ، فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّكَ لا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ سورة القصص آية 56 .

‏‏‏‏ سعید بن مسیّب (جو مشہور تابعین میں سے ہیں۔ ابن مدینی نے کہا: میں نے ان سے زیادہ علم میں کوئی تابعی نہیں پایا، فقیہ ہیں، امام ہیں) روایت کرتے ہیں اپنے باپ سے (مسیّب بن جزن بن عمرو بن عابد بن عمران بن مخزوم سے جو صحابی ہیں) انہوں نے کہا: جب ابوطالب بن عبدالمطلب (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی چچا اور پرورش کرنے والے) مرنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور وہاں ابوجہل (عمرو بن ہشام) اور عبداللہ بن ابی امیہ بن مغیرہ کو بیٹھا دیکھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے چچا میرے! تم کہ لو «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ» ایک کلمہ میں اللہ کے پاس اس کا گواہ رہوں گا تمہارے لئے۔“ (یعنی اللہ عزوجل سے قیامت کے روز عرض کروں گا کہ ابوطالب موحد تھے اور ان کو جہنم سے نجات ہونی چاہئے انہوں نے آخر وقت میں کلمہ توحید کا اقرار کیا تھا) ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ بولے: اے ابوطالب! عبدالمطلب کا دین چھوڑتے ہو؟ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برابر یہی بات ان سے کہتے رہے (یعنی کلمہ توحید پڑھنے کے لئے ادھر ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ اپنی بات بکتے رہے) یہاں تک کہ ابوطالب نے اخیر بات جو کی وہ یہ تھی کہ میں عبدالمطلب کے دین پر ہوں اور انکار کیا «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ» کہنے سے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم اللہ کی میں تمہارے لئے دعا کروں گا (بخشش کی) جب تک منع نہ ہو تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری «مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِيْ قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ» یعنی ”نبی کو اور مسلمانوں کو درست نہیں کہ مشرکوں کے لئے دعا کریں اگرچہ وہ ناطے والے ہوں جب معلوم ہو گیا کہ وہ جہنمی ہیں۔“ پھر اللہ تعالیٰ نے ابوطالب کے بارے میں یہ آیت اتاری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ» یعنی ”تم راہ پر نہیں لا سکتے جس کو چاہو لیکن اللہ راہ پر لا سکتا ہے جس کو چاہے اور وہ جانتا ہے ان لوگوں کو جن کی قسمت میں ہدایت ہے““۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں