صحیح مسلم حدیث ۱۳۰ - لا الہ الا اللہ اور غیر اللہ کی عبادت کا انکار

توحید کا مطلب: اللہ کو ماننا اور باطل معبودوں کا انکار

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۳۰

وحَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِيَانِ الْفَزَارِيَّ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَكَفَرَ بِمَا يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ ، حَرُمَ مَالُهُ ، وَدَمُهُ ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ " .

ابومالک روایت:

ابومالک سے روایت ہے کہ اس نے سنا اپنے باپ سے، کہا: سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جس شخص نے «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ» کہا اور انکار کیا ان چیزوں کا جن کو پوجتے ہیں سوائے اللہ کے (آدمی ہوں یا جن، اوتار، جھاڑ، پہاڑ یا بت وغیرہ) تو حرام ہو گیا مال اس کا اور خون اس کا، اور اس کا حساب اللہ پر ہے۔“

صحیح مسلم حدیث ۱۳۰ کا خلاصہ

یہ حدیث لا الہ الا اللہ کے معنی کو بہت واضح کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے لا الہ الا اللہ کہا اور ان چیزوں کا انکار کیا جنہیں اللہ کے سوا پوجا جاتا ہے، اس کا مال اور خون حرام ہو گیا، اور اس کا حساب اللہ پر ہے۔ اس میں توحید کا عملی مفہوم سامنے آتا ہے: صرف اللہ کو معبود برحق ماننا، اور اللہ کے سوا جن چیزوں کی عبادت کی جاتی ہے ان کا انکار کرنا۔ حدیث میں جان اور مال کی حرمت بھی بیان ہوئی ہے۔ ساتھ ہی یہ بات بھی آئی کہ اصل حساب اللہ کے پاس ہے، اس لیے بندوں کو ظاہر اقرار کے مطابق عدل کرنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • لا الہ الا اللہ میں غیر اللہ کی عبادت کا انکار شامل ہے۔
  • توحید صرف اللہ کو معبود برحق ماننے کا نام ہے۔
  • ایمان کے ظاہر اقرار کے بعد جان و مال کی حرمت ہے۔
  • حساب اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں