صحیح بخاری حدیث ۳۳۰۰ - فتنوں سے دین بچانے کی حدیث
فتنوں سے دین بچانا: پہاڑوں اور بکریوں والی حدیث
صحیح بخاری : ۳۳۰۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۳۰۰
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُوشِكَ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ الرَّجُلِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ ، وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ " .
ابو سعید خدری روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایک زمانہ آئے گا جب مسلمان کا سب سے عمدہ مال اس کی وہ بکریاں ہوں گی جنہیں وہ پہاڑ کی چوٹیوں اور بارش کی وادیوں میں لے کر چلا جائے گا تاکہ اس طرح اپنے دین و ایمان کو فتنوں سے بچا لے۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۳۰۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع فتنوں سے دین کی حفاظت ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ قریب ہے ایک زمانہ آئے جب مسلمان کا سب سے اچھا مال وہ بکریاں ہوں گی جنہیں وہ پہاڑ کی چوٹیوں اور بارش کی وادیوں میں لے جائے گا، تاکہ اپنے دین و ایمان کو فتنوں سے بچا لے۔ حدیث میں یہ بات نہیں کہ ہر وقت لوگوں سے الگ رہنا مطلوب ہے، بلکہ خاص طور پر فتنوں کے وقت دین بچانے کا ذکر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان کی حفاظت دنیا کے مال سے زیادہ اہم ہے۔ اگر حالات ایسے ہوں کہ انسان کے دین کو سخت خطرہ ہو تو اسے اپنے ایمان کی فکر پہلے کرنی چاہیے۔ یہ حدیث فتنہ کے زمانے میں دینی احتیاط کی بڑی واضح تعلیم دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایمان کی حفاظت مال سے زیادہ اہم ہے۔
- فتنوں کے وقت دین بچانے کی فکر کرنی چاہیے۔
- حدیث میں بکریوں اور پہاڑوں کا ذکر خاص حالات کے لیے آیا ہے۔
- مسلمان کو ایسے ماحول سے بچنا چاہیے جو دین کو نقصان دے۔
