صحیح بخاری حدیث ۳۲۹۹ - سانپ والی روایت کی سندی تائید

روایت کی تائید: ابو لبابہ یا زید بن خطاب کا ذکر

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۲۹۹

وَقَالَ : عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ فَرَآنِي أَبُو لُبَابَةَ أَوْ زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ ، وَتَابَعَهُ يُونُسُ ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ ، وَإِسْحَاقُ الْكَلْبِيُّ ، وَالزُّبَيْدِيُّ ، وَقَالَ صَالِحٌ ، وَابْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، وَابْنُ مُجَمِّعٍ : عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَآنِي أَبُو لُبَابَةَ وَزَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ .

´اور عبدالرزاق نے بھی اس حدیث کو معمر سے روایت کیا، اس میں یوں ہے کہ` مجھ کو ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا یا میرے چچا زید بن خطاب نے اور معمر کے ساتھ اس حدیث کو یونس اور ابن عیینہ اور اسحاق کلبی اور زبیدہ نے بھی زہری سے روایت کیا اور صالح اور سالم سے، انہوں نے ابن ابی حفصہ اور ابن مجمع نے بھی زہری سے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس میں یوں ہے کہ مجھ کو ابولبابہ اور زید بن خطاب (دونوں) نے دیکھا۔

صحیح بخاری حدیث ۳۲۹۹ کا خلاصہ

یہ روایت اصل حکم کے بجائے پچھلی روایت کی سند اور الفاظ کی تائید بیان کرتی ہے۔ اس میں بتایا گیا کہ عبدالرزاق نے بھی یہی حدیث معمر سے روایت کی، لیکن الفاظ میں یہ آیا کہ مجھے ابو لبابہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا یا زید بن خطاب رضی اللہ عنہ نے۔ پھر یہ بھی ذکر ہوا کہ یونس، ابن عیینہ، اسحاق کلبی اور زبیدی نے بھی زہری سے اس روایت کی پیروی کی۔ صالح، ابن ابی حفصہ اور ابن مجمع کی روایت میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ لفظ آیا کہ مجھے ابو لبابہ اور زید بن خطاب دونوں نے دیکھا۔ اس سے حدیث کی نقل میں احتیاط کا انداز معلوم ہوتا ہے۔ راویوں نے جہاں لفظ میں فرق تھا اسے چھپایا نہیں، بلکہ صاف بیان کیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • محدثین روایت کے الفاظ کو بڑی احتیاط سے نقل کرتے تھے۔
  • الفاظ کے فرق کو بیان کرنا علمی امانت ہے۔
  • ایک روایت کی تائید کئی سندوں سے ہو سکتی ہے۔
  • حدیث سمجھنے میں راویوں کی وضاحت اہم کردار رکھتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں