صحیح بخاری حدیث ۳۳۰۸ - دو نقطوں والے سانپ کا حکم
دو نقطوں والے سانپ کو مارنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۳۳۰۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۳۰۸
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ فَإِنَّهُ يَلْتَمِسُ الْبَصَرَ وَيُصِيبُ الْحَبَلَ " .
عائشہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس سانپ کے سر پر دو نقطے ہوتے ہیں، انہیں مار ڈالا کرو، کیونکہ وہ اندھا بنا دیتے ہیں اور حمل کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔“ ابواسامہ کے ساتھ اس کو حماد بن سلمہ نے بھی روایت کیا۔
صحیح بخاری حدیث ۳۳۰۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس سانپ کے سر پر دو نقطے ہوں اسے مار ڈالو۔ حدیث میں اس کی وجہ بھی بتائی گئی کہ وہ آنکھوں کو نقصان پہنچاتا ہے اور حمل کو بھی نقصان دے سکتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ہر جانور کا عام ذکر نہیں، بلکہ ایک خاص قسم کے خطرناک سانپ کا حکم بیان ہوا ہے۔ سانپ مارنے کی حدیث، دو نقطوں والا سانپ، اور حمل کو نقصان دینے والا سانپ جیسے الفاظ اسی روایت کے لیے تلاش کیے جاتے ہیں۔ اس حدیث کو بیان کرتے وقت خاص الفاظ کا خیال رکھنا ضروری ہے تاکہ حکم کو بلا وجہ پھیلایا نہ جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دو نقطوں والے سانپ کے بارے میں خاص حکم آیا ہے۔
- حدیث میں اس سانپ کے نقصان کا سبب بھی بیان کیا گیا ہے۔
- خاص حکم کو عام بنانے سے بچنا چاہیے۔
- نقصان دہ چیز سے بچاؤ کے لیے شریعت رہنمائی دیتی ہے۔
