صحیح بخاری حدیث ۳۳۰۷ - گرگٹ کو مارنے کا حکم
گرگٹ کو مارنے کے حکم والی حدیث
صحیح بخاری : ۳۳۰۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۳۰۷
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ , أَنَّ أُمَّ شَرِيكٍ أَخْبَرَتْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَرَهَا بِقَتْلِ الْأَوْزَاغِ " .
ام شریک روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گرگٹ کو مار ڈالنے کا حکم فرمایا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۳۳۰۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں ام شریک رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گرگٹ کو مارنے کا حکم فرمایا۔ پچھلی روایت میں گرگٹ کو موذی جانور کہا گیا تھا، اور یہاں حکم کا پہلو صاف طور پر بیان ہوا ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض جانور انسان کے لیے اذیت یا نقصان کا سبب بن سکتے ہیں، اس لیے ان کے بارے میں شریعت میں الگ ہدایت آئی ہے۔ گرگٹ کی حدیث، چھپکلی مارنے کی حدیث، اور وزغ کے حکم جیسے الفاظ سے لوگ اسی روایت کو تلاش کرتے ہیں۔ اس حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے حد سے بڑھ کر بات نہیں کرنی چاہیے؛ بس یہی کہا جائے گا کہ متن میں گرگٹ کو مارنے کا حکم آیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اس روایت میں گرگٹ کو مارنے کا حکم صاف لفظوں میں آیا ہے۔
- موذی جانور کے معاملے میں شریعت نے خاص ہدایت دی ہے۔
- حدیث کا مفہوم بیان کرتے وقت متن سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔
- دینی مسئلہ سمجھنے کے لیے اصل روایت کو دیکھنا ضروری ہے۔
