صحیح بخاری حدیث ۳۳۰۶ - گرگٹ موذی جانور ہے
گرگٹ موذی جانور ہے: حدیث کا آسان بیان
صحیح بخاری : ۳۳۰۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۳۰۶
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ وَهْب ، قَالَ : حَدَّثَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لِلْوَزَغِ الْفُوَيْسِقُ وَلَمْ أَسْمَعْهُ أَمَرَ بِقَتْلِهِ وَزَعَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِهِ " .
عائشہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گرگٹ (چھپکلی) کے متعلق فرمایا کہ وہ موذی جانور ہے لیکن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے مار ڈالنے کا حکم نہیں سنا تھا اور سعد بن ابی وقاص بتاتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مار ڈالنے کا حکم فرمایا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۳۳۰۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گرگٹ کو موذی جانور فرمایا۔ ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے مارنے کا حکم نہیں سنا۔ پھر سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں ذکر آیا کہ وہ بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مارنے کا حکم دیا ہے۔ اس حدیث میں اصل بات یہ ہے کہ گرگٹ یا چھپکلی کو موذی جانور کہا گیا۔ ساتھ ہی روایت کے الفاظ ہمیں یہ بھی سکھاتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جو بات خود سنتے تھے، اسے اسی حد تک بیان کرتے تھے۔ گرگٹ کی حدیث میں احتیاط اور امانت دونوں نظر آتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- گرگٹ کو حدیث میں موذی جانور کہا گیا ہے۔
- جو بات خود نہ سنی ہو اسے اپنی طرف سے قطعی انداز میں نہ کہنا چاہیے۔
- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم روایت بیان کرنے میں بہت محتاط تھے۔
- ایک ہی موضوع پر مختلف صحابہ سے الگ پہلو نقل ہو سکتے ہیں۔
