صحیح بخاری حدیث ۳۳۰۵ - بنی اسرائیل اور چوہے سے متعلق روایت
بنی اسرائیل اور چوہے کی حدیث کا آسان مفہوم
صحیح بخاری : ۳۳۰۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۳۰۵
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فُقِدَتْ أُمَّةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَا يُدْرَى مَا فَعَلَتْ وَإِنِّي لَا أُرَاهَا إِلَّا الْفَارَ إِذَا وُضِعَ لَهَا أَلْبَانُ الْإِبِلِ لَمْ تَشْرَبْ ، وَإِذَا وُضِعَ لَهَا أَلْبَانُ الشَّاءِ شَرِبَتْ فَحَدَّثْتُ كَعْبًا ، فَقَالَ : أَنْتَ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ ؟ ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : لِي مِرَارًا ، فَقُلْتُ : أَفَأَقْرَأُ التَّوْرَاةَ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بنی اسرائیل میں کچھ لوگ غائب ہو گئے۔ (ان کی صورتیں مسخ ہو گئیں) میرا تو یہ خیال ہے کہ انہیں چوہے کی صورت میں مسخ کر دیا گیا۔ کیونکہ چوہوں کے سامنے جب اونٹ کا دودھ رکھا جاتا ہے تو وہ اسے نہیں پیتے (کیونکہ بنی اسرائیل کے دین میں اونٹ کا گوشت حرام تھا) اور اگر بکری کا دودھ رکھا جائے تو پی جاتے ہیں۔پھر میں نے یہ حدیث کعب احبار سے بیان کی تو انہوں نے (حیرت سے) پوچھا، کیا واقعی آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ حدیث سنی ہے؟ کئی مرتبہ انہوں نے یہ سوال کیا۔ اس پر میں نے کہا (کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنی تو پھر کس سے) کیا میں توراۃ پڑھا کرتا ہوں؟ (کہ اس سے نقل کر کے بیان کرتا ہوں)۔
صحیح بخاری حدیث ۳۳۰۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بنی اسرائیل کے ایک ایسے گروہ کا ذکر آتا ہے جو غائب ہو گیا تھا۔ حدیث کے الفاظ میں یہ خیال بیان ہوا کہ شاید وہ چوہوں کی صورت میں مسخ کر دیے گئے ہوں۔ وجہ کے طور پر یہ بات ذکر ہوئی کہ چوہا اونٹ کا دودھ نہیں پیتا، مگر بکری کا دودھ پی لیتا ہے۔ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ بات کعب احبار سے بیان کی تو انہوں نے بار بار پوچھا کہ کیا آپ نے یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے واضح کیا کہ یہ تورات سے نہیں بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی بات ہے۔ اس میں روایت سنانے کی امانت بھی نمایاں ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث بیان کرتے وقت سنی ہوئی بات کو امانت کے ساتھ نقل کرنا چاہیے۔
- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی نسبت کو صاف انداز میں واضح کیا۔
- کسی عجیب بات پر بھی اصل ماخذ پوچھنا درست ہے۔
- بنی اسرائیل کے واقعات میں عبرت کا پہلو موجود ہو سکتا ہے۔
