صحیح بخاری حدیث ۳۳۱۰ - ابن عمر رضی اللہ عنہما اور سانپوں کا معاملہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما اور سانپ مارنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۳۳۱۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۳۱۰
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ الْقُشَيْرِيِّ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَقْتُلُ الْحَيَّاتِ ثُمَّ نَهَى ، قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدَمَ حَائِطًا لَهُ فَوَجَدَ فِيهِ سِلْخَ حَيَّةٍ ، فَقَالَ : انْظُرُوا أَيْنَ هُوَ فَنَظَرُوا ، فَقَالَ : اقْتُلُوهُ فَكُنْتُ أَقْتُلُهَا لِذَلِكَ .
ابن ابی ملیکہ روایت:
ابن عمر رضی اللہ عنہما سانپوں کو پہلے مار ڈالا کرتے تھے لیکن بعد میں انہیں مارنے سے خود ہی منع کرنے لگے۔ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک دیوار گروائی تو اس میں سے ایک سانپ کی کینچلی نکلی، آپ نے فرمایا کہ دیکھو، وہ سانپ کہاں ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے تلاش کیا (اور وہ مل گیا تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے مار ڈالو، میں بھی اسی وجہ سے سانپوں کو مار ڈالا کرتا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۳۳۱۰ کا خلاصہ
اس روایت میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے عمل کا ذکر ہے کہ وہ پہلے سانپوں کو مار دیا کرتے تھے، پھر بعد میں خود ہی اس سے منع کرنے لگے۔ انہوں نے وجہ بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک دیوار گروائی تو اس میں سانپ کی کینچلی نکلی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سانپ کو تلاش کرنے کا حکم دیا، پھر ملنے پر اسے مارنے کا فرمایا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما اسی واقعے کی وجہ سے سانپوں کو مارا کرتے تھے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابی کا عمل کسی سنی ہوئی یا دیکھی ہوئی بات پر قائم ہو سکتا ہے، اور بعد میں نئی روایت یا وضاحت ملنے پر وہ اپنا عمل بدل بھی سکتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل پر عمل کرتے تھے۔
- نئی بات معلوم ہونے پر اپنا عمل درست کر لینا اچھا طریقہ ہے۔
- سانپ کے معاملے میں مختلف صورتیں روایتوں میں آئی ہیں۔
- دینی عمل میں سنی ہوئی دلیل کو اہمیت دی جاتی ہے۔
