صحیح بخاری حدیث ۳۳۱۱ - گھروں کے سانپ اور خاص خطرناک سانپ
گھروں کے سانپ نہ مارنے اور خاص سانپ کو مارنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۳۳۱۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۳۱۱
فَلَقِيتُ أَبَا لُبَابَةَفَأَخْبَرَنِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَقْتُلُوا الْجِنَّانَ إِلَّا كُلَّ أَبْتَرَ ذِي طُفْيَتَيْنِ فَإِنَّهُ يُسْقِطُ الْوَلَدَ وَيُذْهِبُ الْبَصَرَ فَاقْتُلُوهُ " .
ابولبابہ روایت:
´پھر میری ملاقات ایک دن ابولبابہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی، تو انہوں نے مجھے خبر دی کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پتلے یا سفید سانپوں کو نہ مارا کرو۔ البتہ دم کٹے ہوئے سانپ کو جس پر دو سفید دھاریاں ہوتی ہیں اس کو مار ڈالو، کیونکہ یہ اتنا زہریلا ہے کہ حاملہ کے حمل کو گرا دیتا ہے اور آدمی کو اندھا بنا دیتا ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۳۱۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابولبابہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پتلے یا سفید سانپوں کو نہ مارو۔ البتہ دم کٹے ہوئے اور دو سفید دھاریوں والے سانپ کو مارنے کا حکم دیا گیا، کیونکہ حدیث کے مطابق وہ حمل کو گرا دیتا ہے اور آدمی کو اندھا بنا دیتا ہے۔ یہ روایت بہت اہم ہے کیونکہ اس میں منع اور اجازت دونوں ایک ساتھ آئے ہیں۔ گھروں کے سانپ کی حدیث، پتلے سفید سانپ، اور دو دھاری سانپ جیسے الفاظ اسی روایت کے مرکزی الفاظ ہیں۔ اس حدیث سے سیکھنے والی بات یہ ہے کہ ہر سانپ کے بارے میں ایک ہی حکم سمجھنا درست نہیں؛ متن میں خاص فرق بیان کیا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- پتلے یا سفید سانپوں کو نہ مارنے کی ہدایت آئی ہے۔
- دم کٹا اور دو دھاری سانپ اس حکم سے الگ بیان ہوا ہے۔
- حدیث کے اندر موجود فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔
- نقصان دہ جانور کے بارے میں حکم اس کے خطرے کے مطابق ہو سکتا ہے۔
