صحیح بخاری حدیث ۳۳۰۹ - دم بریدہ سانپ کا حکم
دم بریدہ سانپ کو مارنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۳۳۰۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۳۰۹
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بِقَتْلِ الْأَبْتَرِ ، وَقَالَ : إِنَّهُ يُصِيبُ الْبَصَرَ وَيُذْهِبُ الْحَبَلَ " .
عائشہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دم بریدہ سانپ کو مار ڈالنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ یہ آنکھوں کو نقصان پہنچاتا ہے اور حمل کو ساقط کر دیتا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۳۳۰۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دم بریدہ سانپ کو مارنے کا حکم دیا۔ حدیث میں وجہ بھی آئی ہے کہ یہ آنکھوں کو نقصان پہنچاتا ہے اور حمل کو ساقط کر دیتا ہے۔ اس سے صاف پتا چلتا ہے کہ بات ایک خاص قسم کے سانپ کے بارے میں ہے، نہ کہ ہر جگہ ہر سانپ کے بارے میں ایک ہی انداز کا عمومی بیان۔ دم بریدہ سانپ کی حدیث، سانپ مارنے کا حکم، اور آنکھ کو نقصان دینے والا سانپ جیسے الفاظ اس روایت کے اہم تلاش کیے جانے والے الفاظ ہیں۔ اس حدیث کا سبق یہ ہے کہ خطرناک چیز سے بچنے کے لیے عملی قدم بھی دین کا حصہ ہو سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دم بریدہ سانپ کے بارے میں مارنے کا حکم آیا ہے۔
- حدیث میں اس سانپ کے نقصان کا ذکر صاف ہے۔
- خطرے کے وقت صرف بات نہیں، مناسب عمل بھی ضروری ہو سکتا ہے۔
- حدیث کے الفاظ کو خاص صورت کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔
