صحیح بخاری حدیث ۳۲۹۸ - گھروں میں رہنے والے سانپوں کا حکم

گھریلو سانپ فوراً نہ مارنے کی ہدایت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۲۹۸

قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَبَيْنَا أَنَا أُطَارِدُ حَيَّةً لِأَقْتُلَهَا فَنَادَانِي أَبُو لُبَابَةَ لَا تَقْتُلْهَا ، فَقُلْتُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَ بِقَتْلِ الْحَيَّاتِ ، قَالَ : إِنَّهُ نَهَى بَعْدَ ذَلِكَ عَنْ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ وَهِيَ الْعَوَامِرُ .

عبداللہ بن عمر روایت:

ایک مرتبہ میں ایک سانپ کو مارنے کی کوشش کر رہا تھا کہ مجھ سے ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے پکار کر کہا کہ اسے نہ مارو، میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو سانپوں کے مارنے کا حکم دیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ بعد میں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو جو جِن ہوتے ہیں دفعتاً مار ڈالنے سے منع فرمایا۔

صحیح بخاری حدیث ۳۲۹۸ کا خلاصہ

اس روایت میں گھروں میں رہنے والے سانپوں کے بارے میں ہدایت بیان ہوئی ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ایک سانپ کو مارنے کی کوشش کر رہے تھے تو ابو لبابہ رضی اللہ عنہ نے انہیں پکارا کہ اسے نہ مارو۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے سانپوں کے مارنے کا حکم دیا تھا۔ ابو لبابہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ بعد میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو، جو عوامر کہلاتے ہیں، دفعتاً مار ڈالنے سے منع فرمایا۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر حکم کو اس کی مکمل تفصیل کے ساتھ سمجھنا ضروری ہے۔ نقصان دہ سانپوں کا حکم الگ ہے، اور گھروں میں رہنے والے سانپوں کے بارے میں احتیاط کا حکم الگ بیان ہوا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • گھروں میں رہنے والے سانپوں کو فوراً مارنے سے منع کیا گیا۔
  • دینی حکم سمجھنے کے لیے مکمل روایت دیکھنی چاہیے۔
  • صحابہ ایک دوسرے کو حدیث کی یاد دہانی کراتے تھے۔
  • نقصان دہ اور گھریلو سانپ کے حکم میں فرق بیان ہوا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں