صحیح بخاری حدیث ۳۲۹۷ - نقصان دہ سانپوں کو مارنے کا حکم
نقصان دہ سانپوں کے بارے میں نبوی حکم
صحیح بخاری : ۳۲۹۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۲۹۷
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّه سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ ، يَقُولُ : " اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ وَاقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ فَإِنَّهُمَا يَطْمِسَانِ الْبَصَرَ وَيَسْتَسْقِطَانِ الْحَبَلَ .
عبداللہ بن عمر روایت:
´ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، ان سے معمر نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے سالم نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ` انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر خطبہ دیتے ہوئے فرما رہے تھے کہ سانپوں کو مار ڈالا کرو (خصوصاً) ان کو جن کے سروں پر دو نقطے ہوتے ہیں اور دم بریدہ سانپ کو بھی، کیونکہ دونوں آنکھ کی روشنی تک ختم کر دیتے ہیں اور حمل تک گرا دیتے ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۳۲۹۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں سانپوں کے بارے میں ایک خاص حکم بیان ہوا ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کو منبر پر خطبہ دیتے ہوئے سنا کہ سانپوں کو مار ڈالا کرو، خاص طور پر ان کو جن کے سروں پر دو نقطے ہوتے ہیں اور دم بریدہ سانپ کو بھی۔ حدیث میں وجہ بھی بیان ہوئی کہ یہ دونوں آنکھ کی روشنی تک ختم کر دیتے ہیں اور حمل تک گرا دیتے ہیں۔ اس حدیث کا موضوع عام خوف نہیں بلکہ خاص نقصان دہ سانپوں کے بارے میں ہدایت ہے۔ ہمیں حدیث کے الفاظ کو اسی حد میں سمجھنا چاہیے۔ جہاں جان اور صحت کو خطرہ ہو، وہاں شریعت نے حفاظت کی طرف رہنمائی دی ہے۔ ساتھ ہی اگلی روایتوں میں گھروں والے سانپوں کے بارے میں مزید احتیاط بھی آتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نقصان دہ سانپوں سے بچاؤ کی ہدایت دی گئی ہے۔
- دو نقطوں والے اور دم بریدہ سانپ کا خاص ذکر آیا ہے۔
- جان اور صحت کی حفاظت اسلام میں اہم ہے۔
- حدیث کے حکم کو اسی متن کے مطابق سمجھنا چاہیے۔
