صحیح بخاری حدیث ۳۳۰۱ - تکبر، سختی اور بکری والوں کی سکینت
فخر و تکبر سے بچیں: بکری والوں میں سکینت کی حدیث
صحیح بخاری : ۳۳۰۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۳۰۱
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " رَأْسُ الْكُفْرِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ وَالْفَخْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي أَهْلِ الْخَيْلِ ، وَالْإِبِلِ وَالْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْوَبَرِ ، وَالسَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کفر کی چوٹی مشرق میں ہے اور فخر اور تکبر کرنا گھوڑے والوں، اونٹ والوں اور زمینداروں میں ہوتا ہے جو (عموماً) گاؤں کے رہنے والے ہوتے ہیں اور بکری والوں میں دل جمعی ہوتی ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۳۰۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں فخر، تکبر اور سکینت کا ذکر آیا ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ کفر کی چوٹی مشرق کی طرف ہے، اور فخر و تکبر گھوڑے والوں، اونٹ والوں اور زمینداروں میں ہوتا ہے جو عموماً دیہات کے رہنے والے ہوتے ہیں، جبکہ بکری والوں میں دل جمعی ہوتی ہے۔ حدیث کے الفاظ میں جن طبقات کا ذکر ہے، انہیں اسی متن کے دائرے میں سمجھنا چاہیے۔ اصل سبق یہ ہے کہ انسان کو فخر، خود پسندی اور سختی سے بچنا چاہیے، اور سکینت، نرمی اور دل جمعی کو پسند کرنا چاہیے۔ بکری والوں کے بارے میں سکینت کا ذکر بتاتا ہے کہ سادہ زندگی اور نرم مزاجی میں خیر ہو سکتی ہے۔ یہ حدیث ہمیں اپنے رویے کا جائزہ لینے کی طرف متوجہ کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- فخر اور تکبر بری صفات ہیں۔
- سکینت اور دل جمعی پسندیدہ اوصاف ہیں۔
- حدیث میں مختلف گروہوں کے مزاج کا ذکر آیا ہے۔
- مسلمان کو اپنے دل سے غرور کم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
