صحیح بخاری حدیث ۴۳۸۸ - اہل یمن کے نرم دل
اہل یمن کی حدیث: نرم دل، ایمان اور حکمت
صحیح بخاری : ۴۳۸۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۳۸۸
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً وَأَلْيَنُ قُلُوبًا ، الْإِيمَانُ يَمَانٍ ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ ، وَالْفَخْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي أَصْحَابِ الْإِبِلِ ، وَالسَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ " ، وَقَالَ غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ : سَمِعْتُ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے یہاں اہل یمن آ گئے ہیں، ان کے دل کے پردے باریک، دل نرم ہوتے ہیں، ایمان یمن والوں کا ہے اور حکمت بھی یمن کی اچھی ہے اور فخر و تکبر اونٹ والوں میں ہوتا ہے اور اطمینان اور سہولت بکری والوں میں۔ اور غندر نے بیان کیا اس حدیث کو شعبہ سے، ان سے سلیمان نے، انہوں نے ذکوان سے سنا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۳۸۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں اہل یمن کی ایک بڑی خوبی بیان ہوئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں، ان کے دل نرم ہیں۔ پھر فرمایا کہ ایمان یمنی ہے اور حکمت بھی یمنی ہے۔ اسی کے ساتھ فخر اور تکبر کا تعلق اونٹ والوں کے ساتھ، اور اطمینان و وقار کا تعلق بکری والوں کے ساتھ ذکر ہوا۔ اس حدیث کا عام فہم پیغام یہ ہے کہ دین میں نرمی، سکون، وقار اور حکمت پسندیدہ صفات ہیں۔ انسان کا دل اگر نرم ہو تو وہ نصیحت کو آسانی سے قبول کرتا ہے۔ یہاں اہل یمن کی تعریف ان کے نرم دل ہونے اور دینی خوبیوں کے حوالے سے ہے۔ حدیث میں تکبر اور بڑائی جتانے کے رویے سے بھی بچنے کا اشارہ ملتا ہے، کیونکہ یہ دل کو سخت بنا سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نرم دل ہونا دینی خیر قبول کرنے میں مدد دیتا ہے۔
- ایمان اور حکمت کو دل کے سکون اور وقار کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔
- فخر اور تکبر سے بچنا چاہیے، کیونکہ حدیث میں اس کا اچھا ذکر نہیں آیا۔
