صحیح بخاری حدیث ۴۳۸۹ - ایمان یمنی اور فتنے کا ذکر

ایمان یمنی ہے: فتنے سے خبردار کرنے والی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۳۸۹

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَخِي ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْإِيمَانُ يَمَانٍ ، وَالْفِتْنَةُ هَا هُنَا هَا هُنَا يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان یمن کا ہے اور فتنہ (دین کی خرابی) ادھر سے ہے اور ادھر ہی سے شیطان کے سر کا کونا نمودار ہو گا۔

صحیح بخاری حدیث ۴۳۸۹ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع ایمان اور فتنہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان یمن کا ہے، اور فتنہ ادھر سے ہے جہاں سے شیطان کے سر کا کونا نکلے گا۔ اس میں اہل یمن کی نسبت ایمان کا ذکر بھی ہے اور فتنے سے ہوشیار رہنے کی تنبیہ بھی۔ عام آدمی کے لیے اس حدیث کا پیغام یہ ہے کہ ایمان کی قدر کرنی چاہیے، مگر ساتھ ہی فتنے، گمراہی اور دین میں خرابی سے بے خبر نہیں رہنا چاہیے۔ حدیث میں فتنہ کی سمت کا ذکر آیا ہے، اس لیے اس سے اپنی مرضی کی تفصیل نکالنا درست نہیں۔ بہتر یہ ہے کہ ہم حدیث کے واضح الفاظ پر رہیں: ایمان ایک پسندیدہ نسبت کے ساتھ بیان ہوا، اور فتنہ ایک خطرے کے طور پر ذکر ہوا۔ مومن کو نرم دل، محتاط اور حق بات کا طالب رہنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ایمان ایک بڑی نعمت ہے، اس کی قدر کرنی چاہیے۔
  • فتنے کے ذکر سے مراد انسان کو دینی خطرات سے خبردار کرنا ہے۔
  • حدیث کے واضح الفاظ سے آگے بڑھ کر اپنی طرف سے تفصیل نہیں بنانی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں