صحیح بخاری حدیث ۴۳۹۰ - دین کی سمجھ اور حکمت

دین کی سمجھ کی حدیث: اہل یمن کی نرمی اور حکمت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۳۹۰

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ أَضْعَفُ قُلُوبًا وَأَرَقُّ أَفْئِدَةً ، الْفِقْهُ يَمَانٍ ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ " .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے یہاں اہل یمن آئے ہیں جو نرم دل رقیق القلب ہیں، دین کی سمجھ یمن والوں میں ہے اور حکمت بھی یمن کی ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۴۳۹۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کے آنے کا ذکر کیا اور فرمایا کہ وہ نرم دل اور رقیق القلب ہیں۔ پھر فرمایا کہ دین کی سمجھ یمن والوں میں ہے اور حکمت بھی یمن کی ہے۔ یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ دین کی سمجھ صرف معلومات جمع کرنے کا نام نہیں، بلکہ دل کی نرمی، بات سمجھنے کی صلاحیت، اور حکمت کے ساتھ عمل کرنے سے بھی اس کا تعلق ہے۔ اہل یمن کی تعریف اس پہلو سے کی گئی کہ ان کے دل نرم ہیں اور ان میں فہم دین کا وصف ہے۔ عام زندگی میں یہ حدیث ہمیں نرم لہجہ، سادہ دل، اور سمجھ داری کے ساتھ دین سیکھنے کی طرف لاتی ہے۔ جو شخص دینی بات کو ضد یا غرور کے بجائے نرمی سے سنتا ہے، اس کے لیے سمجھ کا راستہ آسان ہوتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دین کی سمجھ کے ساتھ دل کی نرمی کا تعلق اہم ہے۔
  • حکمت ایک پسندیدہ دینی خوبی ہے جس کی تعریف حدیث میں آئی ہے۔
  • نصیحت کو نرمی اور توجہ سے سننا بہتر رویہ ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں