صحیح بخاری حدیث ۴۳۸۷ - ایمان یمن کی طرف ہے
ایمان یمن کی طرف ہے: نرمی اور سخت دلی کی حدیث
صحیح بخاری : ۴۳۸۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۳۸۷
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْإِيمَانُ هَا هُنَا وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الْيَمَنِ وَالْجَفَاءُ ، وَغِلَظُ الْقُلُوبِ فِي الْفَدَّادِينَ عِنْدَ أُصُولِ أَذْنَابِ الْإِبِلِ مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ رَبِيعَةَ وَمُضَرَ " .
ابومسعود روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان تو ادھر ہے اور آپ نے اپنے ہاتھ سے یمن کی طرف اشارہ کیا اور بےرحمی اور سخت دلی اونٹ کی دم کے پیچھے پیچھے چلانے والوں میں ہے، جدھر سے شیطان کے دونوں سینگ نکلتے ہیں (یعنی مشرق) قبیلہ ربیعہ اور مضر کے لوگوں میں۔
صحیح بخاری حدیث ۴۳۸۷ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع ایمان اور دل کی کیفیت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے یمن کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ ایمان ادھر ہے۔ اسی حدیث میں بے رحمی اور سخت دلی کا ذکر ان لوگوں کے بارے میں آیا جو اونٹوں کے پیچھے رہتے تھے، اور مشرق کی سمت سے شیطان کے دونوں سینگ نکلنے کا ذکر بھی آیا۔ اس حدیث کو پڑھتے ہوئے اصل بات یہ ہے کہ ایمان صرف زبان کے دعوے کا نام نہیں، بلکہ دل کی نرمی، دینی قبولیت اور اللہ کے حکم کے سامنے جھکنے سے بھی اس کا تعلق ہے۔ حدیث میں اہل یمن کی نسبت ایمان کا ذکر ایک خاص خوبی کے طور پر آیا ہے۔ ساتھ ہی سخت دلی اور بے رحمی سے بچنے کا اشارہ بھی ملتا ہے، کیونکہ سخت دل آدمی حق بات کو قبول کرنے میں مشکل محسوس کر سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایمان کے ساتھ دل کی نرمی اور حق قبول کرنے کی آمادگی جڑی ہوئی ہے۔
- سخت دلی اور بے رحمی انسان کو دینی خیر سے دور کر سکتی ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض علاقوں اور لوگوں کی خوبیوں کو بھی بیان فرمایا۔
