صحیح بخاری حدیث ۴۳۸۶ - بشارت قبول کرنے کی اہمیت
بشارت کی حدیث: دینی خوشخبری کو دل سے قبول کرنا
صحیح بخاری : ۴۳۸۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۳۸۶
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو صَخْرَةَ جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ مُحْرِزٍ الْمَازِنِيُّ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ ، قَالَ : جَاءَتْ بَنُو تَمِيمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " أَبْشِرُوا يَا بَنِي تَمِيمٍ " ، قَالُوا : أَمَّا إِذْ بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا ، فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْبَلُوا الْبُشْرَى إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ " ، قَالُوا : قَدْ قَبِلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ .
عمران بن حصین روایت:
بنو تمیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے بنو تمیم! بشارت قبول کرو۔ انہوں نے کہا کہ جب آپ نے ہمیں بشارت دی ہے تو کچھ روپے بھی عنایت فرمائیے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ پھر یمن کے کچھ اشعری لوگ آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ بنو تمیم نے بشارت قبول نہیں کی، یمن والو! تم قبول کر لو۔ وہ بولے ہم نے قبول کی یا رسول اللہ۔
صحیح بخاری حدیث ۴۳۸۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع بشارت قبول کرنا ہے۔ بنو تمیم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے انہیں خوشخبری دی۔ انہوں نے خوشخبری سن کر مال کا مطالبہ کیا، جس سے آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ پھر یمن کے لوگ آئے تو آپ نے فرمایا کہ بنو تمیم نے بشارت قبول نہیں کی، تم اسے قبول کر لو۔ انہوں نے فوراً کہا: یا رسول اللہ! ہم نے قبول کی۔ اس حدیث میں دینی بشارت، قبول حق، اور دنیاوی مطالبے کے فرق کو سادہ انداز میں سمجھایا گیا ہے۔ یہاں بات یہ نہیں کہ سوال کرنا ہر حال میں غلط ہے، بلکہ اس واقعے میں اصل نکتہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی خوشخبری کو پہلے دل سے قبول کرنا چاہیے تھا۔ یمن والوں کا جواب ادب، آمادگی اور قبولیت کی خوب صورت مثال ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی بشارت کو ادب کے ساتھ قبول کرنا چاہیے۔
- دینی نعمت کو فوراً دنیاوی فائدے کے ترازو میں نہیں تولنا چاہیے۔
- اچھی بات سن کر قبولیت اور شکر کا رویہ پسندیدہ ہے۔
