صحیح بخاری حدیث ۳۳۰۲ - ایمان یمن میں ہے
ایمان یمن میں ہے: سخت دلی اور شیطان کے سینگوں کی حدیث
صحیح بخاری : ۳۳۰۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۳۰۲
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي قَيْسٌ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ : أَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْيَمَنِ ، فَقَالَ : " الْإِيمَانُ يَمَانٍ هَا هُنَا أَلَا إِنَّ الْقَسْوَةَ وَغِلَظَ الْقُلُوبِ فِي الْفَدَّادِينَ عِنْدَ أُصُولِ أَذْنَابِ الْإِبِلِ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ فِي رَبِيعَةَ وَمُضَرَ " .
عقبہ بن عمرو ابومسعود روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ایمان تو ادھر ہے یمن میں! ہاں، اور قساوت اور سخت دلی ان لوگوں میں ہے جو اونٹوں کی دمیں پکڑے چلاتے رہتے ہیں۔ جہاں سے شیطان کی چوٹیاں نمودار ہوں گی، یعنی ربیعہ اور مضر کی قوموں میں۔
صحیح بخاری حدیث ۳۳۰۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے یمن کی طرف ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ایمان ادھر ہے، یمن میں۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ قساوت اور سخت دلی ان لوگوں میں ہے جو اونٹوں کی دمیں پکڑے چلاتے رہتے ہیں، جہاں سے شیطان کی چوٹیاں نمودار ہوں گی، یعنی ربیعہ اور مضر کی قوموں میں۔ اس حدیث میں دو باتیں سامنے آتی ہیں: ایک یمن والوں کے لیے ایمان کی نسبت، اور دوسری سخت دلی کے بارے میں تنبیہ۔ ہمیں حدیث کے الفاظ سے آگے بڑھ کر عمومی سیاسی یا نسلی دعوے نہیں بنانے چاہییں۔ اصل سبق یہ ہے کہ ایمان کے ساتھ نرمی، سکینت اور دل کی صفائی مطلوب ہے، جبکہ سخت دلی اور غرور سے بچنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے ایمان کو یمن کی طرف منسوب فرمایا۔
- سخت دلی سے بچنے کی تنبیہ ملتی ہے۔
- ایمان کے ساتھ دل کی نرمی بھی اہم ہے۔
- حدیث کے الفاظ کو احتیاط کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔
