صحیح بخاری حدیث ۴۷۳۸ - تقدیر اور آدم و موسیٰ علیہما السلام کی بحث
تقدیر کی حدیث: آدم اور موسیٰ علیہما السلام کی بحث
صحیح بخاری : ۴۷۳۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۷۳۸
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ النَّجَّارِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " حَاجَّ مُوسَى آدَمَ ، فَقَالَ لَهُ : أَنْتَ الَّذِي أَخْرَجْتَ النَّاسَ مِنَ الْجَنَّةِ بِذَنْبِكَ وَأَشْقَيْتَهُمْ ، قَالَ : قَالَ آدَمُ : يَا مُوسَى ، أَنْتَ الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَبِكَلَامِهِ أَتَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي أَوْ قَدَّرَهُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام نے آدم علیہ السلام سے بحث کی اور ان سے کہا کہ آپ ہی نے اپنی غلطی کے نتیجہ میں انسانوں کو جنت سے نکالا اور مشقت میں ڈالا۔آدم علیہ السلام بولے کہ اے موسیٰ! آپ کو اللہ نے اپنی رسالت کے لیے پسند فرمایا اور ہم کلامی کا شرف بخشا۔ کیا آپ ایک ایسی بات پر مجھے ملامت کرتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے میری پیدائش سے بھی پہلے میرے لیے مقرر کر دیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چنانچہ آدم علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام پر بحث میں غالب آ گئے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۷۳۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع تقدیر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ موسیٰ علیہ السلام نے آدم علیہ السلام سے کہا کہ آپ کی غلطی کی وجہ سے لوگ جنت سے نکلے اور مشقت میں پڑے۔ آدم علیہ السلام نے جواب میں کہا کہ اے موسیٰ! اللہ نے آپ کو رسالت کے لیے چنا اور آپ سے کلام فرمایا، پھر آپ مجھے اس بات پر کیوں ملامت کرتے ہیں جو اللہ نے میری پیدائش سے پہلے میرے لیے لکھ دی تھی یا مقرر کر دی تھی۔ اس روایت میں آدم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کی بحث کا ذکر ہے، اور آخر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدم علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام پر بحث میں غالب آ گئے۔ عام فہم بات یہ ہے کہ یہ حدیث تقدیر پر ایمان، اللہ کے فیصلے، اور انبیاء علیہم السلام کے باہمی مکالمے کو بیان کرتی ہے۔ اس میں کوئی لمبی فقہی بحث نہیں، بلکہ صرف اتنا بتایا گیا ہے کہ آدم علیہ السلام نے اللہ کے پہلے سے لکھے ہوئے فیصلے کا ذکر کیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ تعالیٰ نے بعض امور انسان کی پیدائش سے پہلے ہی مقرر فرما دیے۔
- موسیٰ علیہ السلام کو اللہ نے رسالت اور ہم کلامی کا خاص شرف عطا فرمایا۔
- آدم علیہ السلام نے اپنی بات میں تقدیر کا حوالہ دیا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ بحث میں غالب آ گئے۔
- دینی بات کرتے وقت اصل نص کے الفاظ اور حدود کا خیال رکھنا چاہیے۔
