صحیح مسلم حدیث ۶۶۲۸ - ابن عباس رضی اللہ عنہما اور معاویہ کو بلانے کا واقعہ
معاویہ رضی اللہ عنہ کو بلانے کا واقعہ: حدیث کا محتاط فہم
صحیح مسلم : ۶۶۲۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۲۸
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ الْقَصَّابِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كُنْتُ أَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَوَارَيْتُ خَلْفَ بَابٍ ، قَالَ : فَجَاءَ فَحَطَأَنِي حَطْأَةً ، وَقَالَ : اذْهَبْ وَادْعُ لِي مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : فَجِئْتُ ، فَقُلْتُ : هُوَ يَأْكُلُ ، قَالَ ، ثُمَّ قَالَ لِيَ : اذْهَبْ فَادْعُ لِي مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : فَجِئْتُ ، فَقُلْتُ : هُوَ يَأْكُلُ ، فَقَالَ : لَا أَشْبَعَ اللَّهُ بَطْنَهُ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : قُلْتُ لِأُمَيَّةَ : مَا حَطَأَنِي ؟ قَالَ : قَفَدَنِي قَفْدَةً " .
ابن عباس روایت:
میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، میں ایک دروازہ کے پیچھے چھپ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے مجھے تھپکا (پیار سے) اور فرمایا: ”جا معاویہ کو بلا لا۔“ میں گیا، پھر لوٹ آیا اور میں نے کہا: وہ کھانا کھاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”جا اور معاویہ کو بلا لا۔“ میں پھر لوٹ کر آیا اور کہا: وہ کھانا کھاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اس کا پیٹ نہ بھرے۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۶۲۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اپنا بچپن کا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں۔ وہ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم تشریف لائے، تو وہ دروازے کے پیچھے چھپ گئے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے انہیں پیار سے تھپکا اور فرمایا کہ جاؤ، معاویہ کو بلا لاؤ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما گئے اور واپس آ کر بتایا کہ وہ کھانا کھا رہے ہیں۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے دوبارہ بھیجا، پھر بھی یہی جواب آیا۔ اس کے بعد نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اللہ اس کا پیٹ نہ بھرے۔ اس روایت میں صرف واقعہ بیان ہوا ہے۔ اس لیے اس حدیث کو پڑھتے ہوئے ہمیں متن سے آگے بڑھ کر اپنی طرف سے کوئی دعویٰ نہیں کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث کے واقعہ کو اسی طرح بیان کرنا چاہیے جیسے متن میں آیا ہے۔
- ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بچپن کا واقعہ نقل کیا۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے ایک کام کے لیے معاویہ رضی اللہ عنہ کو بلانے کا حکم دیا۔
- متن سے بڑھ کر غیر ضروری نتیجہ نہیں نکالنا چاہیے۔
