صحیح بخاری حدیث ۷۲۳۳ - موت کی تمنا سے ممانعت
موت کی تمنا نہ کرو: انس رضی اللہ عنہ کی حدیث
صحیح بخاری : ۷۲۳۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۲۳۳
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا تَتَمَنَّوْا الْمَوْتَ ، لَتَمَنَّيْتُ " .
انس بن مالک روایت:
اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہ سنا ہوتا کہ موت کی تمنا نہ کرو تو میں موت کی آرزو کرتا۔
صحیح بخاری حدیث ۷۲۳۳ کا خلاصہ
یہ حدیث موت کی تمنا کے بارے میں بہت مختصر مگر صاف ہدایت دیتی ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر میں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے یہ نہ سنا ہوتا کہ موت کی تمنا نہ کرو تو میں موت کی آرزو کرتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم اپنی شدید حالت یا تکلیف کے باوجود نبی صلى الله عليه وسلم کے حکم کو مقدم رکھتے تھے۔ حدیث میں وجہ تفصیل سے بیان نہیں ہوئی، اس لیے وضاحت کو اسی حد تک رکھنا چاہیے کہ موت کی تمنا سے منع کیا گیا ہے۔ اصل سبق یہ ہے کہ انسان مشکل کے وقت بھی اپنے الفاظ اور خواہشات میں نبی صلى الله عليه وسلم کی تعلیم کا پابند رہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- موت کی تمنا سے نبی صلى الله عليه وسلم نے منع فرمایا۔
- صحابہ رضی اللہ عنہم اپنی خواہش کو حدیث کے حکم کے تابع رکھتے تھے۔
- شدید حالت میں بھی زبان اور دعا کا خیال رکھنا چاہیے۔
- حدیث کے مختصر الفاظ کو اسی حد تک سمجھنا چاہیے جتنا متن بتاتا ہے۔
