صحیح بخاری حدیث ۷۲۳۴ - موت کی دعا سے منع
موت کی دعا سے ممانعت: خباب رضی اللہ عنہ کی حدیث
صحیح بخاری : ۷۲۳۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۲۳۴
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ : أَتَيْنَا خَبَّابَ بْنَ الْأَرَتِّ نَعُودُهُ وَقَدِ اكْتَوَى سَبْعًا ، فَقَالَ : " لَوْلَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَدْعُوَ بِالْمَوْتِ ، لَدَعَوْتُ بِهِ .
قیس روایت:
ہم خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ان کی عیادت کے لیے حاضر ہوئے۔ انہوں نے سات داغ لگوائے تھے، پھر انہوں نے کہا کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں موت کی دعا کرنے سے منع نہ کیا ہوتا تو میں اس کی دعا کرتا۔
صحیح بخاری حدیث ۷۲۳۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں قیس بیان کرتے ہیں کہ وہ خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے گئے۔ خباب رضی اللہ عنہ نے سات داغ لگوائے تھے، یعنی بیماری اور علاج کی سخت حالت تھی۔ اس کے باوجود انہوں نے کہا کہ اگر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ہمیں موت کی دعا کرنے سے منع نہ کیا ہوتا تو میں اس کی دعا کرتا۔ حدیث میں تکلیف کی شدت کا ذکر ہے، مگر خباب رضی اللہ عنہ نے اپنی تکلیف کو نبی صلى الله عليه وسلم کے حکم سے اوپر نہیں رکھا۔ یہ بات بہت اہم ہے کہ مومن بیماری یا درد میں بھی ممنوع دعا سے بچنے کی کوشش کرے۔ متن سے یہی سبق ملتا ہے کہ موت کی دعا کرنے سے روکا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیماری کی سختی میں بھی موت کی دعا سے بچنا چاہیے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم کی ممانعت صحابہ کے عمل پر غالب تھی۔
- عیادت کرنا صحابہ کے عمل میں شامل تھا۔
- تکلیف انسان کو بے قابو کر سکتی ہے، مگر دعا میں احتیاط ضروری ہے۔
