صحیح بخاری حدیث ۷۲۳۵ - زندگی نیکی اور توبہ کا موقع

موت کی آرزو نہ کرو: نیکی بڑھانے اور توبہ کا موقع

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۲۳۵

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ اسْمُهُ سَعْدُ بْنُ عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ ، إِمَّا مُحْسِنًا فَلَعَلَّهُ يَزْدَادُ ، وَإِمَّا مُسِيئًا فَلَعَلَّهُ يَسْتَعْتِبُ " .

ابی عبید روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی شخص تم میں سے موت کی آرزو نہ کرے، اگر وہ نیک ہے تو ممکن ہے نیکی میں اور زیادہ ہو اور اگر برا ہے تو ممکن ہے اس سے توبہ کر لے۔“

صحیح بخاری حدیث ۷۲۳۵ کا خلاصہ

یہ حدیث موت کی آرزو سے ممانعت کی وجہ بھی بتاتی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی موت کی آرزو نہ کرے۔ اگر وہ نیک ہے تو ممکن ہے نیکی میں اور بڑھ جائے، اور اگر برا ہے تو ممکن ہے توبہ کر لے۔ اس میں زندگی کو ایک موقع کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ نیک آدمی کے لیے زندگی مزید نیکی کا راستہ بن سکتی ہے، اور گناہ کرنے والے کے لیے واپسی اور توبہ کا موقع ہو سکتی ہے۔ حدیث کا انداز امید والا ہے، مگر اس میں کوئی بے بنیاد وعدہ نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ موت مانگنے کے بجائے زندگی کو درست عمل کے لیے استعمال کیا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • کسی مسلمان کو موت کی آرزو نہیں کرنی چاہیے۔
  • نیک آدمی کے لیے زندگی مزید نیکی کا موقع ہو سکتی ہے۔
  • غلطی کرنے والے کے لیے زندگی توبہ کا موقع ہو سکتی ہے۔
  • مایوسی کے بجائے عمل اور توبہ کی طرف توجہ رکھنی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں