صحیح بخاری حدیث ۱۳۷۱ - مردوں کو سنانے کے بارے میں عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان

مردوں کو سنانے کی حدیث: عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۳۷۱

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ : إِنَّمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُمْ لَيَعْلَمُونَ الْآنَ أَنَّ مَا كُنْتُ أَقُولُ حَقٌّ ، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتَى سورة النمل آية 80 " .

عائشہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے کافروں کو یہ فرمایا تھا کہ میں جو ان سے کہا کرتا تھا اب ان کو معلوم ہوا ہو گا کہ وہ سچ ہے۔ اور اللہ نے سورۃ الروم میں فرمایا «إنك لا تسمع الموتى» اے پیغمبر! تو مردوں کو نہیں سنا سکتا۔

صحیح بخاری حدیث ۱۳۷۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان نقل ہوا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے کافروں کے بارے میں یہ فرمایا تھا کہ اب انہیں معلوم ہو گیا ہوگا کہ جو بات میں ان سے کہا کرتا تھا وہ حق ہے۔ پھر عائشہ رضی اللہ عنہا نے قرآن کی آیت کا ذکر کیا کہ اے پیغمبر! آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے۔ اس روایت میں احتیاط کا پہلو یہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بدر کے واقعے کو اس انداز سے بیان کیا کہ اصل بات حق کا معلوم ہو جانا ہے، نہ کہ عام طور پر مردوں کو سنانا۔ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ دینی نصوص کو نقل کرتے وقت الفاظ اور مفہوم دونوں کا خیال رکھنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بدر کے واقعے کی وضاحت بیان کی۔
  • قرآن کی آیت کے ساتھ حدیث کا مفہوم سمجھنا ضروری ہے۔
  • حق بات مرنے کے بعد انسان پر ظاہر ہو جاتی ہے، جیسا کہ روایت میں آیا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں