صحیح بخاری حدیث ۱۳۷۰ - بدر کے مقتولین کو خطاب
بدر کے کنویں والوں کی حدیث: وعدۂ رب کے سچا ہونے کا بیان
صحیح بخاری : ۱۳۷۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۳۷۰
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنِي أَبِي , عَنْ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ , قَالَ : " اطَّلَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ الْقَلِيبِ , فَقَالَ : وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ، فَقِيلَ لَهُ : تَدْعُو أَمْوَاتًا ، فَقَالَ : مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ مِنْهُمْ وَلَكِنْ لَا يُجِيبُونَ " .
ابن عمر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کنویں والوں (جس میں بدر کے مشرک مقتولین کو ڈال دیا گیا تھا) کے قریب آئے اور فرمایا تمہارے مالک نے جو تم سے سچا وعدہ کیا تھا اسے تم لوگوں نے پا لیا۔ لوگوں نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مردوں کو خطاب کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم کچھ ان سے زیادہ سننے والے نہیں ہو البتہ وہ جواب نہیں دے سکتے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۳۷۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں بدر کے بعد کا ایک خاص واقعہ بیان ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کنویں والوں کے قریب آئے، یعنی وہ لوگ جو بدر میں مارے گئے تھے، اور فرمایا کہ تمہارے رب نے جو سچا وعدہ کیا تھا، کیا تم نے اسے پا لیا؟ لوگوں نے عرض کیا کہ آپ مردوں کو خطاب کر رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم ان سے زیادہ سننے والے نہیں، البتہ وہ جواب نہیں دے سکتے۔ اس حدیث کو سمجھتے ہوئے یہ بات سامنے رکھنی چاہیے کہ روایت ایک خاص واقعہ بیان کر رہی ہے۔ اس میں اصل پیغام یہ ہے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، اور موت کے بعد انسان حقیقت کو پا لیتا ہے۔ یہاں مردوں کے جواب نہ دے سکنے کا ذکر بھی صاف موجود ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کا وعدہ سچا ہے اور آخرکار ظاہر ہو کر رہتا ہے۔
- یہ روایت بدر کے خاص واقعے کو بیان کرتی ہے۔
- مرنے والے جواب نہیں دے سکتے، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔
