صحیح بخاری حدیث ۱۳۶۹ - عذاب قبر اور ثابت قدمی
عذاب قبر کی حدیث: اللہ ایمان والوں کو ثابت قدم رکھتا ہے
صحیح بخاری : ۱۳۶۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۳۶۹
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا , وَزَادَ يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا سورة إبراهيم آية 27 نَزَلَتْ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ .
شعبہ روایت:
´ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے غندر نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے یہی حدیث بیان کی۔` ان کی روایت میں یہ زیادتی بھی ہے کہ آیت «يثبت الله الذين آمنوا» ”اللہ مومنوں کو ثابت قدمی بخشتا ہے۔“ عذاب قبر کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۳۶۹ کا خلاصہ
اس روایت میں بہت مختصر مگر اہم بات آئی ہے۔ شعبہ کی روایت میں یہ اضافہ بیان ہوا کہ آیت «يثبت الله الذين آمنوا» یعنی اللہ ایمان والوں کو ثابت قدم رکھتا ہے، عذاب قبر کے بارے میں نازل ہوئی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قبر کا معاملہ انسان کے لیے سنجیدہ مرحلہ ہے، اور وہاں ثابت قدمی اللہ کی طرف سے ملتی ہے۔ حدیث کے الفاظ ہمیں یہ سمجھاتے ہیں کہ ایمان صرف دنیا کی بات نہیں، بلکہ مرنے کے بعد کے حال سے بھی اس کا تعلق ہے۔ عذاب قبر کی حدیثیں انسان کو ڈرانے کے لیے نہیں بلکہ سنبھلنے کے لیے یاد دلائی جاتی ہیں۔ اس روایت میں اصل زور اس بات پر ہے کہ ایمان والوں کو اللہ ثابت رکھتا ہے، اس لیے بندہ اپنے ایمان کی حفاظت کرے اور اللہ پر بھروسہ رکھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قبر کے معاملے میں ثابت قدمی اللہ کی طرف سے ملتی ہے۔
- ایمان کی قدر مرنے کے بعد بھی ظاہر ہوتی ہے۔
- عذاب قبر کا ذکر انسان کو سنبھلنے کی یاد دلاتا ہے۔
