صحیح بخاری حدیث ۱۳۷۷ - عذاب قبر اور دجال سے پناہ کی دعا

عذاب قبر سے پناہ کی دعا: دجال اور فتنوں سے حفاظت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۳۷۷

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَدْعُو اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح دعا کرتے تھے «اللهم إني أعوذ بك من عذاب القبر، ومن عذاب النار، ومن فتنة المحيا والممات، ومن فتنة المسيح الدجال» ”اے اللہ! میں قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور دوزخ کے عذاب سے اور زندگی اور موت کی آزمائشوں سے اور کانے دجال کی بلا سے تیری پناہ چاہتا ہوں“۔

صحیح بخاری حدیث ۱۳۷۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک جامع دعا نقل ہوئی ہے۔ آپ دعا کرتے تھے: اے اللہ! میں قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں، دوزخ کے عذاب سے، زندگی اور موت کی آزمائشوں سے، اور مسیح دجال کے فتنے سے۔ یہ دعا ایک مسلمان کو چار بڑے خطرات یاد دلاتی ہے: قبر، جہنم، زندگی و موت کی آزمائشیں، اور دجال کا فتنہ۔ حدیث ہمیں دعا کا وہ انداز سکھاتی ہے جس میں بندہ اپنی کمزوری مان کر اللہ سے حفاظت مانگتا ہے۔ اس میں لمبی بات نہیں، بلکہ سیدھی درخواست ہے۔ عذاب قبر سے پناہ کی دعا کو یاد کرنا اور پڑھنا اس حدیث کا عملی فائدہ ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قبر اور جہنم کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔
  • زندگی اور موت کے فتنے سے حفاظت کی دعا ثابت ہے۔
  • مسیح دجال کے فتنے سے پناہ مانگنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا میں شامل ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں