صحیح بخاری حدیث ۲۸۲۳ - عاجزی اور سستی سے پناہ کی دعا
عاجزی اور سستی سے پناہ کی دعا: زندگی، موت اور قبر کے فتنے سے حفاظت
صحیح بخاری : ۲۸۲۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۸۲۳
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ ، وَالْجُبْنِ ، وَالْهَرَمِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا ، وَالْمَمَاتِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ " .
انس بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں عاجزی اور سستی سے ‘ بزدلی اور بڑھاپے کی ذلیل حدود میں پہنچ جانے سے اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں زندگی اور موت کے فتنوں سے اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے۔“
صحیح بخاری حدیث ۲۸۲۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع دعا اور پناہ مانگنا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے عاجزی، سستی، بزدلی، بڑھاپے کی کمزور حالت، زندگی اور موت کے فتنوں اور عذاب قبر سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ یہ دعا ہمیں بتاتی ہے کہ بندہ اپنی کمزوری کو مانے اور اللہ ہی سے مدد چاہے۔ عاجزی اور سستی انسان کو اچھے کام سے روک سکتی ہے، بزدلی مشکل وقت میں ثابت قدمی کو کم کر سکتی ہے، اور زندگی و موت کے فتنے انسان کے دین و عمل کے لیے آزمائش بن سکتے ہیں۔ عذاب قبر سے پناہ کی دعا بھی اس حدیث کا صاف پیغام ہے۔ یہ دعا مختصر ہے مگر مسلمان کی روزمرہ زندگی کے بڑے خوف اور خطرات کو سمیٹ لیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسلمان کو اپنی کمزوریوں سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔
- سستی، عاجزی اور بزدلی اچھے کاموں میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔
- زندگی، موت اور قبر کے معاملات میں اللہ سے حفاظت مانگنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا میں شامل ہے۔
- دعا میں دنیا اور آخرت دونوں کی فکر ہونی چاہیے۔
