صحیح بخاری حدیث ۲۸۳۷ - خندق میں دعا اور ثابت قدمی
خندق میں دعا: ہدایت، نماز، صدقہ، سکینت اور ثابت قدمی
صحیح بخاری : ۲۸۳۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۸۳۷
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ يَنْقُلُ التُّرَابَ وَقَدْ وَارَى التُّرَابُ بَيَاضَ بَطْنِهِ وَهُوَ ، يَقُولُ : " لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا فَأَنْزِل السَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا إِنَّ الْأُلَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا " .
براء بن عازب روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوہ احزاب (خندق) کے موقع پر دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مٹی (خندق کھودنے کی وجہ سے جو نکلتی تھی) خود ڈھو رہے تھے۔ مٹی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ کی سفیدی چھپ گئی تھی اور یہ شعر کہہ رہے تھے «لولا أنت ما اهتدينا ولا تصدقنا ولا صلينا. فأنزل السكينة علينا وثبت الأقدام إن لاقينا. إن الألى قد بغوا علينا إذا أرادوا فتنة أبينا.» ”اے اللہ اگر تو نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے اور ہم نہ صدقہ دیتے، اور نہ نماز پڑھتے، پس تو ہم پر سکینت نازل فرما، اور جب ہم دشمن سے مقابلہ کریں، تو ہمیں ثابت قدم رکھ، بے شک ان لوگوں نے ہم پر ظلم کیا ہے، جب یہ کوئی فساد کرنا چاہتے ہیں تو ہم ان کی بات میں نہیں آتے۔“
صحیح بخاری حدیث ۲۸۳۷ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع خندق، دعا اور ثابت قدمی ہے۔ براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوہ احزاب کے دن دیکھا کہ آپ مٹی اٹھا رہے تھے، یہاں تک کہ مٹی سے آپ کے پیٹ کی سفیدی چھپ گئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ اے اللہ، اگر تو نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے، نہ صدقہ دیتے، نہ نماز پڑھتے۔ پھر آپ نے سکینت نازل ہونے اور دشمن سے مقابلے کے وقت قدم ثابت رکھنے کی دعا فرمائی۔ حدیث میں یہ بھی آتا ہے کہ مخالف لوگ زیادتی پر اتر آئے تھے اور جب وہ فتنے کا ارادہ کرتے تو مسلمان ان کی بات قبول نہیں کرتے تھے۔ یہ روایت محنت، عبادت، دعا اور ثابت قدمی کا خوبصورت مجموعہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہدایت، نماز اور صدقہ کو اللہ کی توفیق سے جوڑا گیا۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خندق کی محنت میں شریک تھے۔
- دشمن سے ملاقات کے وقت ثابت قدمی کی دعا کی گئی۔
- فتنے کے ارادے کے سامنے انکار اور مضبوطی دکھائی گئی۔
