صحیح بخاری حدیث ۲۸۳۸ - غزوہ تبوک سے واپسی
غزوہ تبوک سے واپسی: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کی مختصر روایت
صحیح بخاری : ۲۸۳۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۸۳۸
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ ، قَالَ : " رَجَعْنَا مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
انس بن مالک روایت:
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ساتھ غزوہ تبوک سے واپس ہوئے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۸۳۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع غزوہ تبوک سے واپسی ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ بہت مختصر انداز میں بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک سے واپس ہوئے۔ اس روایت میں تفصیل کم ہے، اس لیے اس کی وضاحت بھی اسی حد میں رہنی چاہیے۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ کے سفر سے واپسی کا ذکر محفوظ کیا۔ غزوہ تبوک اسلامی تاریخ کا معروف نام ہے، مگر اس حدیث کے متن میں صرف واپسی کا ذکر ہے، اس لیے اسی بات کو مرکزی رکھنا درست ہے۔ اس روایت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر، غزوہ اور واپسی کے واقعات کو نقل کرتے تھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ کرام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیش آنے والے واقعات محفوظ کرتے تھے۔
- اس روایت میں غزوہ تبوک سے واپسی کا مختصر ذکر ہے۔
- جب روایت مختصر ہو تو اس میں غیر موجود تفصیل شامل نہیں کرنی چاہیے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر بھی حدیث کے ذریعے نقل ہوئے۔
