صحیح بخاری حدیث ۲۸۳۴ - خندق کی مشقت اور آخرت کی زندگی

خندق کی کھدائی: آخرت کی زندگی اور مہاجرین و انصار کے لیے دعا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۸۳۴

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْخَنْدَقِ فَإِذَا الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ يَحْفِرُونَ فِي غَدَاةٍ بَارِدَةٍ ، فَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ عَبِيدٌ يَعْمَلُونَ ذَلِكَ لَهُمْ ، فَلَمَّا رَأَى مَا بِهِمْ مِنَ النَّصَبِ وَالْجُوعِ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ " فَقَالُوا : مُجِيبِينَ لَهُ نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدَا عَلَى الْجِهَادِ مَا بَقِينَا أَبَدَا .

انس روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میدان خندق کی طرف تشریف لے گئے (غزوہ خندق کے شروع ہونے سے کچھ پہلے جب خندق کی کھدائی ہو رہی تھی) ‘ آپ نے دیکھا کہ مہاجرین اور انصار رضوان اللہ علیہم اجمعین سردی کی سختی کے باوجود صبح ہی صبح خندق کھودنے میں مصروف ہیں ‘ ان کے پاس غلام بھی نہیں تھے جو ان کی اس کھدائی میں مدد کرتے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تھکن اور بھوک کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی ”اے اللہ! زندگی تو پس آخرت ہی کی زندگی ہے پس انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما۔“ یعنی درحقیقت جو مزہ ہے آخرت کا ہے مزہ۔۔۔ بخش دے انصار اور پردیسیوں کو اے اللہ۔۔۔ صحابہ نے اس کے جواب میں کہا ”ہم وہ ہیں جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر اس وقت تک جہاد کرنے کا عہد کیا ہے جب تک ہماری جان میں جان ہے۔“ اپنے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بیعت ہم نے کی جب تلک ہے زندگی۔۔۔ لڑتے رہیں گے ہم سدا۔

صحیح بخاری حدیث ۲۸۳۴ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع غزوہ خندق، مشقت اور دعا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خندق کی طرف تشریف لے گئے تو دیکھا کہ مہاجرین اور انصار سخت سرد صبح میں خندق کھود رہے ہیں۔ ان کے پاس غلام بھی نہیں تھے جو ان کی مدد کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تھکن اور بھوک دیکھی تو دعا فرمائی کہ اے اللہ، زندگی تو آخرت ہی کی زندگی ہے، پس انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما۔ صحابہ نے جواب میں کہا کہ ہم وہ ہیں جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر جہاد کا عہد کیا ہے جب تک ہماری جان میں جان ہے۔ اس روایت میں خندق کی محنت، صحابہ کی وفاداری، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سب ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مشکل کام میں صحابہ کرام خود محنت کرتے تھے۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کی بھوک اور تھکن دیکھی اور دعا فرمائی۔
  • آخرت کی زندگی کو اصل زندگی کہا گیا۔
  • مہاجرین اور انصار نے جہاد پر ثابت رہنے کا عہد یاد کیا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں