صحیح بخاری حدیث ۲۸۳۵ - خندق، بیعت اور آخرت کی خیر
خندق میں مہاجرین و انصار کی محنت: آخرت کی خیر اور برکت کی دعا
صحیح بخاری : ۲۸۳۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۸۳۵
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : جَعَلَ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ يحَفْرِوُنَ الْخَنْدَقِ حول المدينة ، وينقلون التراب على متونهم ، ويقولون : نحن الذين بايعوا محمدا على الإسلام ما بقينا أبدا والنبي صلى الله عليه وسلم يجيبهم ، ويقول : " اللهم إنه لا خير إلا خير الآخره فبارك في الأنصار والمهاجره " .
انس بن مالک روایت:
جب تمام عرب کے مدینہ منورہ پر حملہ کا خطرہ ہوا تو) مدینہ کے اردگرد مہاجرین و انصار خندق کھودنے میں مشغول ہو گئے ‘ مٹی اپنی پشت پر لاد لاد کر اٹھاتے اور (یہ رجز) پڑھتے جاتے ”ہم وہ ہیں جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر اس وقت تک جہاد کے لیے بیعت کی ہے جب تک ہماری جان میں جان ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس رجز کے جواب میں یہ دعا فرماتے ”اے اللہ! آخرت کی خیر کے سوا اور کوئی خیر نہیں ‘ پس تو انصار اور مہاجرین کو برکت عطا فرما۔
صحیح بخاری حدیث ۲۸۳۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع خندق کی محنت، بیعت اور دعا ہے۔ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مہاجرین اور انصار مدینہ کے اردگرد خندق کھود رہے تھے۔ وہ مٹی اپنی پشت پر اٹھاتے اور کہتے کہ ہم وہ ہیں جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر اسلام کے لیے بیعت کی ہے جب تک ہماری جان باقی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے جواب میں فرماتے کہ اے اللہ، آخرت کی خیر کے سوا کوئی خیر نہیں، پس انصار اور مہاجرین میں برکت فرما۔ اس روایت میں صحابہ کی عملی محنت بھی ہے اور ان کا دینی عہد بھی۔ خندق کی کھدائی صرف جسمانی کام نہیں تھی، بلکہ اس میں ایمان، عہد اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا ساتھ ساتھ چل رہی تھی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مہاجرین اور انصار نے خندق کھودنے میں خود حصہ لیا۔
- صحابہ اپنے عہد اور بیعت کو محنت کے وقت بھی یاد رکھتے تھے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آخرت کی خیر کو اصل خیر فرمایا۔
- انصار اور مہاجرین کے لیے برکت کی دعا کی گئی۔
