صحیح بخاری حدیث ۲۸۳۶ - اگر تو نہ ہوتا ہم ہدایت نہ پاتے
اگر تو نہ ہوتا ہم ہدایت نہ پاتے: خندق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا
صحیح بخاری : ۲۸۳۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۸۳۶
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقُلُ ، وَيَقُولُ : "لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا " .
براء بن عازب روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (خندق کھودتے ہوئے مٹی) اٹھا رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ ”(اے اللہ!) اگر تو نہ ہوتا تو ہمیں ہدایت نصیب نہ ہوتی۔“ یعنی تو ہدایت گر نہ ہوتا تو نہ ملتی ہم کو راہ۔
صحیح بخاری حدیث ۲۸۳۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع ہدایت اور اللہ کا شکر ہے۔ براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خندق کے موقع پر مٹی اٹھا رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ اگر تو نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے۔ یہ روایت مختصر ہے، مگر اس میں بہت صاف پیغام ہے کہ ہدایت اللہ کی طرف سے ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود مشقت کے کام میں شریک تھے، اور اسی حالت میں اللہ کی نعمت کا اقرار فرما رہے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ محنت، دعا اور شکر ایک ساتھ ہو سکتے ہیں۔ خندق کی حدیث، لولا أنت ما اهتدينا، اور ہدایت کی دعا جیسے سرچ الفاظ اسی روایت سے جڑتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہدایت اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خندق کے کام میں خود شریک تھے۔
- مشقت کے وقت بھی اللہ کا شکر اور ذکر کیا جا سکتا ہے۔
- دینی کام میں محنت کے ساتھ اللہ سے تعلق بھی مضبوط رہنا چاہیے۔
